تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 367

دے گا۔اوران کی حشمت جاتی رہے گی۔چنانچہ آیت کاآخری حصہ بھی انہی معنوں کی تائید کرتا ہے کیونکہ اس میں یہ فرمایاگیا ہے کہ وَلَاتَحْزَنْ عَلَیْہِمْ یعنے ان کی تباہی پر غم نہ کر۔لَا تَمُدَّنَّ کے معنی کفار کے اموال کی لالچ کی نگاہ سے دیکھنے کے نہیں اس جملہ کے ہوتے ہوئے وہ معنے جو بعض لوگوں نے کئے ہیں کس قدرخلاف عقل ہوجاتے ہیں۔کیونکہ اگر وہ معنےصحیح ہیں۔توآیت کامضمون یہ بن جائے گا کہ اے محمد رسو ل اللہ !توان کے مالوں کو دیکھ کر لالچ نہ کر اوریہ خواہش نہ کر کہ وہ اموال تجھ کو مل جائیں۔اورتو ان کی تباہی پر غم نہ کھا۔یہ معنے کیسے لغو ہیں۔اورکس طرح ان کاایک حصہ دوسرے حصہ کورد کرتا ہے۔لیکن جو معنے میں نے کئے ہیں وہ ساری آیت کے مضمون کو ایک دوسرے کامؤید بنادیتے ہیں۔جوشخص دوسرے کے مال کو لینا چاہتا ہے وہ اس کی تباہی پر غمگین کیونکر ہو سکتا ہے و ہ تواپنی خواہش سے عملًا اس کی تباہی کی دعاکرتا ہے۔وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤمِنِیْنَ کے الفاظ بھی میرے کئے ہوئے معنوں کی تائید کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ معنے مراد ہوں جن کو میں نے رد کیا ہے۔تواس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ کفار کے متعلق یہ خواہش نہ کر کہ ان کامال تجھ کو مل جائے اوران کی تباہی پر افسوس نہ کر۔اورمومنوں کی تربیت کی طرف پوری توجہ کر۔اگر یہ معنے ہوں توآیت کے سب ٹکڑے بے ربط ہوجاتے ہیں۔لیکن میرے کئے ہوئے معنوں کی صورت میں یہ الفاظ بھی آیت کے دوسرے حصوں سے کامل طورپر مربوط معلوم ہوتے ہیں۔کیونکہ ان میں یہ بتایا گیاہے کہ بڑے بڑے کفار کی تباہی کا ہم فیصلہ کرچکے ہیں۔پس اب ان کی جاتی ہوئی شان کو دیکھ کرتوغم نہ کر بلکہ جولوگ ان کی جگہ لینے والے ہیں یعنے مومن ان کی تربیت کی طرف متوجہ ہوجا کہ اب دنیا کی ترقی پرانے سرداروں کے بچانے سے ممکن نہیں۔بلکہ اس کامدار ان لوگوں کی صحیح تربیت پر ہے۔آیت وَاخْفِضْ سے ہجرت کی طرف اشارہ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤمِنِیْنَ سے ایک باریک اشارہ ہجرت کی طرف بھی کیاگیا ہے۔کیونکہ مومنوں کی کامل تربیت ایک نظام کو چاہتی ہے قرآن کریم کے وہ احکام جونظام کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ان کاعملی اجراء مکہ میں نہیں ہوسکتاتھا۔پس یہ کہہ کر کہ اب تومومنوں کی ایسی تربیت کی طرف توجہ کر کہ آگے چل کر یہ دنیا کانظام سنبھال لیں۔اس طر ف اشارہ کیا گیا ہے کہ اب ہم تجھے اس جگہ لے جانے والے ہیں جہاں تجھے اس تربیت کاموقعہ پوری طرح مل جائے گا۔خلاصہ یہ کہ آنکھیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھنے سے اس لئے منع نہیں کیا گیا۔کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم