تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 362
کے لفظ سے اس امرکی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی قوم کوتباہ کرتے وقت ڈرا نہیں کرتے۔کیونکہ ہم خلّاق ہیں یعنی بہت پیداکرنے والے ہیں تباہ کرنے سے ڈرتواس کو ہو جوپھر پیدانہ کرسکے مگر ہم توخلاق ہیں۔ہرمفسد قوم کو ہلاک کر کے اس کی جگہ دوسری قوم کو کھڑاکردیتے ہیں۔اورہماری بادشاہت میں کوئی کمی نہیںآتی اس جگہ اس قسم کامضمون بیان کیا گیاہے۔جوحضرت موسیٰ علیہ السلام اورفرعون کے متعلق سورئہ زمر میں بیان کیاگیاہے وہاں فرعونیوں کی تباہی بیان کرکے فرماتا ہے کہ كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ۔فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ۔(الدخان : ۲۹۔۳۰) یعنے اےموسیٰ!دیکھ ہم نے کس طرح اس قوم کو تباہ کردیا۔اوران کی جگہ وہی عزت ایک اورقوم کو (یعنی خود موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو )دے دی اوران کی تباہی پر آسمان نہ رویا اورنہ زمین روئی یعنے نہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی میں کوئی کمی آئی کہ اہل آسمان کواس پررنج ہوتا۔اورنہ اہل زمین کو ان کی تباہی سے کوئی نقصان پہنچا نہ انہوں نے ان کی تباہی پر افسوس کیا کیونکہ انبیاء کے مخالف ہمیشہ ظالم ہوتے ہیں۔ان کی تباہی کے بعدباقی دنیا افسوس نہیں کرتی بلکہ امن کاسانس لیتی ہے۔اور علیم کالفظ جو آخر میں رکھا ہے۔اس میں اس امر کی طر ف اشارہ کیاہے کہ ان کی تباہی کے بعد دنیا میں جو ایک نیانظام قائم ہوگا اسے ہم جانتے ہیں۔وہ ایسا اعلیٰ درجہ کانظام ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے ان لوگوں کی تباہی اورودسری قوم کے پیداکرنے پر رنج نہیں خوشی ہونی چاہیے۔قرآن کریم کاکتنا کما ل ہے۔ایک مختصرلفظ سے کس قدروسیع مطالب بیا ن کردیئے ہیں اورمسلمانوں کی حکومت کے اعلیٰ نظام کی طرف کس خوبی سے اشارہ کیا ہے قرآنی مطالب کی ترتیب بھی کیسی اعلیٰ ہے۔شروع سورۃ میں فرمایاتھا ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَ يَتَمَتَّعُوْا وَ يُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ(الحجر :۴) ان کوچھوڑ دے کہ کھائیں۔دنیوی فائدے اٹھائیں۔اورلمبی لمبی امید وں میں پڑے رہیں یہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کاکیا انجام ہوتاہے۔اب آکر فرمایا۔لو اب وہ گھڑی آہی پہنچی۔اوران کے کھانے پینے اوربڑی بڑی امیدیں رکھنے کا زمانہ ختم ہوگیا۔یہ مضمون کازورایسا ہی ہے جیسے کہ آبشار کاپانی جب گرنے کے مقام پر آتا ہے تویکدم اس میں زور پیداہو جاتا ہے۔ایک اعتراض کا جواب اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ۔میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی ترقی کے ظاہری سامان کہاں سے پیداہوں گے۔ان کویاد رکھناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ خلّاق ہے۔جب وہ وقت آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ان لوگوں کی تباہی اورمسلمانوں کی ترقی کافیصلہ کرلے گی۔تواللہ تعالیٰ جو خلاق ہے خود ہی سب سامان پیداکردے گا۔