تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 358

زلزلہ نے صبح ہوتے ہی آپکڑا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے انہیں صبح کے وقت عذاب نے آدبایا۔دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب زلزلہ کاتھا جیسے کہ سورئہ اعراف میں بیان فرمایا ہے فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جَاثِمِیْنَ (الاعراف:۷۹) ان کے انکا رکی وجہ سے انہیں زلزلہ نے آپکڑا۔نتیجہ یہ ہواکہ وہ اپنے گھرو ںمیں زمین پر گر ے کے گرے رہ گئے۔یعنی مکانوںکے ملبہ کے نیچے دب گئے۔اورکوئی ایسا بھی نہ رہا جو ان کی لاشوں کو اند ر سے نکالتا۔فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَؕ۰۰۸۵ اورجو(مال) وہ جمع کیا کرتے تھے اس نے انہیں (اس وقت کچھ بھی)فائدہ نہ دیا۔حلّ لُغَا ت۔اَغْنٰی عَنْہُ :تشریح کے لئے دیکھو حل لغات سورئہ ابراہیم آیت نمبر ۲۲ جلد ھذا۔یَکْسِبُونَ:یکسبون کَسَبَ سے مضارع جمع غائب کاصیغہ ہے۔تفصیل کے لئے دیکھو سورہ رعد آیت نمبر۴۳ جلد ھذا۔تفسیر۔اصحاب الحجر کے اپنے بنائے ہوئے سامانوں سے تباہ کئے جانے کے ذکر کا مطلب یعنے وہ توبڑے بڑے مکان اپنی حفاظت کے لئے بناتے تھے مگر ان کی یہ صفت ان کے لئے اس وقت الٹی پڑی۔کیونکہ جتنے بڑے مکان ہوں اتنا ہی زیادہ وہ زلزلہ میں نقصان پہنچاتے ہیں۔کیونکہ ان کے نیچے دب جانے والے انسان کی نجات کی کوئی امید نہیں رہتی۔اس میں اس طرف اشار ہ کیاہے کہ اے اہل مکہ تم سامان سامان کا شورمچارہے ہو۔یاد رکھو کہ جب ہماراعذاب آتاہے تومعذب قوم کے سامان ان کو فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ ان کی ہلاکت کو اورزیادہ خطرناک بنادیتے ہیں۔وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ اورہم نے آسمانوں اورزمین کو حق(و حکمت) کے ساتھ ہی پیدا کیاہے وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ۰۰۸۶ ا وروہ (موعودہ)گھڑی یقیناً آنے والی ہے اس لئے تو(ان کی زیادتیوں پر )مناسب درگذر سے کام لے۔حل لغات۔بِالحقّ۔الحقّ کے لئے دیکھو سورہ رعد آیت نمبر ۱۵ جلد ھذا۔