تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 352
چیزیں کم تول کر نہ دیا کرو۔اورزمین میں فساد نہ کیا کر و۔ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ اصحاب مدین یااصحاب ایکہ میں ایک ہی قسم کی بدیاں تھیں اوران کا بڑا گذارہ تجارت پر تھا اوراس میں وہ دھوکے فریب سے بہت کام لیتے تھے۔اگریہ سمجھا جائے کہ مدین شہر میں تومدین قوم رہتی تھی۔اوردوان جنگل میں رہتے تھے تویہ بھی ماننا پڑے گاکہ مدین قوم کاگذارہ تجارت پر تھا۔اوراصحاب ایکہ کا گلہ پالنے پر۔تواس صورت میں قرآن کریم نےجواصحاب ایکہ کے کام بھی تجارت میں دھوکہ دینا اور باٹو ں اورپیمانوں میں شرار ت کرنا بتایا ہے وہ غلط ہو جاتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی قوم اورایک ہی تمدن رکھنے والی قوم کے ہیں۔صرف دوصفات کی وجہ سے دوناموں سے بنو قتورہ کو پکاراگیاہے۔فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍؕؒ۰۰۸۰ اس لئے ہم نے انہیں (بھی اسی طرح سخت )سزادی تھی۔اوریہ دونوں (جگہیں )ایک (صاف اور)واضح راستے پر (واقع )ہیں۔حلّ لُغَات۔امام مبین لَبِاِمَامٍ مُّبِین:اَلْاِمَامُ الطَّرِیْقُ الْوَاسِعُ۔امام کے معنے کھلے راستہ کے ہیں وَبِہِ فُسِّرَ قَوْلُہُ تَعَالیٰ وَانَّھُمَالَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ اَیْ بِطَرِیْقٍ یُؤَمُّ اَیْ یُقْصَدُ:یعنے آیت انَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِینٍ میں امام کے معنے کھلے راستہ کے کئے جاتے ہیں یعنی ایسا راستہ جس کاقصد کیا جاتا ہے وَقَالَ فَرَّاء اَیْ فِی طَرِیْقٍ لَھُمْ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا فِی اَسْفَارِھِمْ فَجَعَلَ الطَّرِیْقَ اِمَامًا لِاَنَّہُ یُتَّبَعَ اورفرّاء نے اِمَامٍ مَّبِیْنٍ کے معنے کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ راستہ جس پر وہ اکثر اپنے سفروں میں گذرتے ہیں اورراستے کوامام اس لئے کہا کہ اس کے پیچھے چلاجاتاہے یعنی جدھر وہ جاتا ہے ادھر ہی جانا پڑتا ہے (تاج) تفسیر۔اصحاب الایکہ اصحاب مدین کے مقام کا محل و قوع اصحاب ایکہ یا اصحاب مدین کا مقام ایسا تھا کہ شام اورمصر کوجانے والے قافلے ان کے پاس سے گذرتے تھے۔اورمبین اس لئے فرمایا۔کہ وہ راستہ بہت چلتاتھا۔اورجوراستے بہت چلتے ہوں ان کے نشان واضح ہوتے ہیں۔اس قوم کے ذکر سے اس امر کی ایک اورمثال پیش کی ہے کہ استراق سمع کرنے والے لوگ آخر تباہ کردیئے جاتے ہیں۔قوم لوط کے متعلق سبیل مقیم اور اصحاب الایکہ کے متعلق امام مبین کہنے کا مطلب قوم لوط کے