تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 350
جاسکتی۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! جغرافیوں سے اس کا پتہ ملتا ہے۔چنانچہ مولوی سلیمان صاحب ندوی اپنی کتاب ارض القرآن میںبرٹن کی کتاب بولڈمائنز آف مدین کے حوالہ سے لکھتے ہیں۔کہ ایک یونانی جغرافیہ نویس لکھتاہے ’’خلیج عیلانہ(عقبہ)کے پیچھے جس کے چاروں طرف نبطی عرب رہتے ہیں۔(ارض مدین یہ ہے)یوتیمانوس (بنوتیمن)کاملک ہے جو وسیع اورمسطح ہے۔اورسیراب اورعمیق ہے۔وہاں نباتات اوراشجار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔جوتابقد آدم ہوتے ہیں۔اورجن کی وجہ سے جنگلی اونٹ ہرنوں کے گلے اور بارہ سنگے رہتے ہیں۔اورنیز مویشی اوربھیڑ کے گلے۔مگر ان مواہب قسمت کے ساتھ شیر اوربھیڑیوں کاوجود بھی ہے۔جن سے یہاں کے باشندوں کی خوش قسمتی مبدل بہ بدقسمتی ہے ‘‘(جلد ۲ صفحہ ۲۴)۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مدین کے پاس (مدین خلیج عقبہ کے سر پر واقع ہے)ایک جنگل تھا جس میں (۱)قد آدم درخت تھے اورپیلو اورجنگلی بیر قدآدم ہی ہوتے ہیں۔(۲)وہاں جنگلی اونٹ رہتے تھے۔یہ بھی پیلو اوربیر کے درختوں کی تصدیق کرتاہے کیونکہ اونٹ اسی قسم کے درختوں پر گذران کرتے ہیں (۳)اس میں مواشی اوربھیڑوں کے گلے رہتے تھے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ مدین کی قوم جانوربھی پالتی تھی اوراسی جنگل میں انہیں چرایاکرتے تھے۔مدین قوم کا نام بھی تھا اور شہر بھی مدین نام اس شہر کا جو ایکہ کے سر پر تھا مدین قوم کی وجہ سے پڑاتھا۔پس شہر کانام بھی مدین تھا اورقوم کانام بھی مدین تھا۔چنانچہ قرآن کریم نے دونوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال فرمایا ہے۔قوم کے معنے میں سورئہ ہودمیں ہے۔وہاں فرماتا ہےوَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا (ہود:۸۵نیز الاعراف :۸۶و العنکبوت :۳۷)اورشہر کے معنوں میں توبہ میں فرماتا ہے وَ اَصْحٰبِ مَدْيَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ (التوبۃ : ۷۰)یعنی کیا ان کو مدین شہرکے رہنے والوں اوران بستیوں کی خبر نہیں پہنچی جن کو اُلٹادیاگیاتھا (یعنی قوم لوط کی بستیاں) مدین قوم حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے تھی یہ مدین قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھی بائبل میں لکھاہے۔’’اورابراہیم نے ایک اورجوروکی۔جس کانام قتورہ تھا۔اوراس سے زمران اوریقسان اورمدان اورمدیان اوراسباق اورسوخ پیداہوئے۔اوریقسا ن سے صباء اوردوان پیداہوئے۔اوردوان کے فرزندا سوری اورلطوسی اور لومی تھے۔اورمدیان کے فرزند عیفہ اورغفر اورحنو ک اورابیداع اور الدوعاتھے۔اوریہ سب بنو قتورہ تھے۔(پیدائش باب ۲۵ آیت اتا۴) اس حوالہ سے معلو م ہوتاہے کہ مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔اوران کی بیوی قتورہ کے پیٹ سے پیداہوئے تھے۔چونکہ اس جگہ صرف یقسان اورمدیان کی اولاد گنائی گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لڑکوں