تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 348
عبد الرحمن بن علی بن محمد ابن الجوزی باب الثامن و الثلاثون فی ذکر عدلہ فی رعیتہ) وَ اِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ۰۰۷۷ اوروہ (کوئی گمنام جگہ نہیں بلکہ)ایک بڑے مستقل راستے پر (واقع )ہے۔حلّ لُغَات۔سبیل مقیم۔سَبِیْلٌ مُقِیْمٌ اَیْ بَیِّنٌ وَاضِحٌ (تاج)یعنی واضح بیّن راستہ۔تفسیر۔یعنی ان کی بستیاں ایک ایسے راستہ پر واقع ہیں جو اب تک چلتاہے مٹانہیں۔اس وجہ سے اے کفار! تمہارے قافلے شام کو آتے جاتے عین اس کے پاس سے گذرتے ہیں۔پھر تم عبرت نہیں حاصل کرتے۔حضرت لوط ؑ کی بستیاں عین اس راستہ پر واقع ہیں جو عرب سے شام کو جاتاہے۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۷۸ اس (واقعہ )میں مومنوں (کے فائدہ)کے لئے یقیناً ایک نشان(موجود )ہے۔تفسیر۔آنحضرت ؐ کے زمانہ کے عذاب کو لوط ؑکے زمانہ کے عذاب سے مشابہت اس آیت میں مومنوں کے لئے اسے نشان قراردیاہے۔جب کہ پہلی آیت کو متوسّمین کے لئے نشان قرار دیاتھا۔یہ فرق اس لئے ہے کہ پہلی آیت میں یہ ذکر تھا۔کہ اس واقعہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ سے مشابہت ہے چونکہ اس مشابہت کو ہرشخص نہیں معلوم کرسکتا۔بلکہ خاص فراست والے معلو م کرسکتے ہیں۔کیونکہ باریک مضمون ہے اس لئے متوسّمین کالفظ استعمال کیا۔لیکن اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ و ہ بستیاں ایک چلتے ہوئے راستہ پر ہیں۔اورایک تباہ شدہ بستی سے عبرت حاصل کرنا کوئی باریک مضمو ن نہیں بلکہ صرف دل کی خشیت سے تعلق رکھتاہے۔یہ اس لئے فرمایا کہ اس سےمومن فائدہ اٹھاسکے۔وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَۙ۰۰۷۹ اوراَیکہ والے (بھی)یقیناً ظالم تھے۔حلّ لُغات۔اَلْاَیْکَۃُ:اَلاَیْکَۃُ اَلاَیْکُ الشَّجَرُ الْکَثِیْرُ الْمُلْتَفُّ وَقِیْلَ الْغَیْضَۃُ تُنْبِتُ