تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 345

ہوگیا۔حالانکہ اصل میں انجا م دیکھا جاتاہے۔ہم اپنے کلام کی عظمت دکھانے کے لئے اوراسے اعتراضوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک دن ان کو تباہ و برباد کردیں گے اورتیرابدلہ لے کر تیری عزت کوقائم کردیں گے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلّم اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔فَدَتْ نَفْسِیْ وَرُوْحِیْ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ قَدْاُوْذِیْتَ کَثِیْرًا فِی اَعْلَاءِ کَلِمَۃِ اللہِ رَفَعَ اللہُ شَأنَکَ وَاَحْیَا ذِکْرَ کِ اِلیٰ اَبَدِالْاَبادِ۔فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَۙ۰۰۷۴ اس پر اس( موعود) عذاب نے دن چڑھتے (ہی)انہیں پکڑلیا۔حلّ لُغَات۔الصَّیْحَۃُ۔الصَّیْحَۃُ اَلْعَذَابُ صیحۃٌ کے معنی عذاب کے ہیں۔الْغَارَۃُ اِذَا فُوْجی ءَ الحیُّ بھَا(اقرب)۔ایسی غارت جو قبیلہ پر اچانک آجا ئے۔مُشْرِقِیْنَ:مُشْرِقِیْنَ اَشْرَقَ سے اسم فاعل کاصیغہ مُشرِقٌ آتاہے اور مُشْرِقُوْنَ اس کی جمع ہے اور اَشْرَقَتِ الشَّمْسُ کے معنے ہیں طَلَعَتْ۔سورج نکل آیا۔اَضَاءَتْ سورج کی روشنی پھیل گئی۔وَقِیْلَ شَرَقَتِ الشَّمْسُ طَلَعَتْ وَاَشْرَقَتِ الشَّمْسُ اَضَاءَتْ وَصَفَا شُعَاعُہَا۔اورجب سورج کے لئے شَرقَتْ (ثلاثی مجرد)کہیں۔تو اس کے معنے ہوں گے کہ سورج نکل آیا۔اورجب اَشْرَقَتْ (ثلاثی مزید)استعمال کریں۔تواس کے معنی ہوں گے کہ سورج کی روشنی خوب پھیل گئی۔اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ۔اَنَارَتْ بِاِشْرَاقِ الشَّمْسِ۔سورج کے طلوع ہونے سے زمین پر روشنی پھیل گئی۔اَشْرَقَ الرَّجُلُ۔دَخَلَ فِیْ شُرُوْقِ الشَّمْسِ۔اس پرطلو ع آفتاب کا وقت آگیا۔(اقرب) تفسیر۔پہلے مُصْبِحِیْنَ فرمایا اور اس آیت میں مُشْرِقِیْنَ پہلے مُصْبِحِیْنَ فرمایاتھا۔اب یہاں مُشْرِقِیْنَ فرمایا ہے۔بظاہر یہ اختلاف معلوم ہوتاہے۔کیونکہ مُشْرِقٌ کے معنے ہیں جس پر سورج نکل آئے اورمُصْبِحٌ کے معنے بظاہر طلوع آفتاب کے وقت میں داخل ہونے والے کے ہیں۔مُصْبِحِیْنَ اور مُشْرِقِیْنَ میں کوئی اختلاف نہیں لیکن حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں کیونکہ صبح پوپھٹنے سے لے کر طلوع آفتا ب تک کوبھی کہتے ہیں۔اوراول النہار یعنے دن کے پہلے حصہ کو بھی کہتے ہیں۔پس دونوں لفظ درست ہیں۔چونکہ سورج نکلتے وقت یہ واقعہ ہواتھا(پیدائش باب۱۹ آیت ۲۳) اس لئے مُصْبِحِیْنَ کہنا بھی درست ہے