تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 344
جو تیرے د ل کو صدمہ پہنچا ہے اسے ہم جانتے ہیں اوراس میں تجھ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔خصوصاًاس لئے کہ لوط کے مخالف باوجود اس قدر گند اہونے کے ان کی بیٹیوں کے ذریعے سے انہیں دکھ نہ دیتے تھے۔جیساکہ سورئہ ہود میں ہے کہ جب حضرت لوط ؑ نے کہا کہ میری بیٹیا ںتم میں موجود ہیں اگر میں غداری کروں توتم ان کے ذریعہ سے مجھے دکھ دے سکتے ہو۔اور چونکہ کوئی باپ اپنی بیٹیوں کادکھ برداشت نہیں کرسکتا۔اس لئے سمجھ لوکہ کم سے کم ان کے خیال سے ہی میں تم کو دھوکہ نہ دوں گا۔تواس پر ان لوگوں نے یہ جواب دیاکہلَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِی بَنَاتِکَ مِنْ حَقِّ (ہود :۸۰) تجھ کو معلوم ہے کہ تیری لڑکیوں کو دکھ دینے کا ہمیں حق حاصل نہیں ہمارے لئے خطرہ توپیداکرے اوردکھ ہم تیری لڑکیوں کو دیں۔یہ نہیں ہوسکتالیکن جہاں لوط کے دشمنوں کایہ حال تھا تیرے دشمن اپنی شرارت کے جوش میں اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ تجھ کو تیری لڑکیوں کے ذریعہ سے دکھ دیتے ہیں۔یہ واقعہ اس طرح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوصاحبزادیا ںحضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم ابولہب کے دوبیٹوں عتبہ اورعتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ واسدالغابۃ ام کلثوم ) جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کادعوی کیاتواس ظالم نے اپنے لڑکوں کو عاق کرنے کی دھمکی دےکر انہیں طلاق دلوادی۔آنحضرتؐ کی صاحبزادی حضرت زینب کو تکلیف دیئے جانے کا واقعہ اس طرح آپؐ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب ابوالعاص سے بیاہی ہوئی تھیں۔جب وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے لگیں توظالموں نے ان کی سواری کو پیٹا اورانہیں سواری سے گرادیا۔جس کے نتیجہ میں ان کاحمل ضائع ہوگیا۔اوردیر تک بیمار رہیں (الاستیعاب فی معرفة الاصحاب کتاب النساء باب الزای ) سواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ تجھے تیری لڑکیوں کے ذریعہ سے دکھ دے چکے ہیں۔اورپھر بھی دیں گے۔(حضرت زینبؓ کاواقعہ بعد میں ہوا)ان لوگوں نے لوط ؑ کے دشمنوں جتنی بھی شرافت نہیں دکھا ئی مگر ہمیں تیری جان ہی کی قسم یہ اپنی شرارت میں اندھے ہورہے ہیں اوراس دعویٰ کی تائید میں ہم تیری زندگی کو بطورشہادت پیش کرتے ہیں۔یعنے تونے ان کو کوئی دکھ نہیں دیا۔بلکہ ہمیشہ ان کی خیر خواہی کی۔مگریہ بلاوجہ اوربغیر قصور کے تجھے دکھ دیتے ہیں۔پس یہی ثبوت ہے کہ یہ جوش مخالفت سے اندھے ہو رہے ہیں۔اورہرگز خدا تعالیٰ کاتقویٰ ان کو حاصل نہیں۔پس جب ان کی یہ حالت ہے کہ تجھ پر بلاوجہ اس قدر ظلم کررہے ہیں۔توہم نے لوط کے دشمنوں کو جب اس سے کم جرم پر تباہ کیا۔توکیا اس سے بڑے ظلم پر انہیں سزانہ دیں گے؟اس آیت کا تعلق سورۃ کے اصل مضمون سے یہ ہے۔کہ یہ لوگ تجھ پرنازل ہونے والے کلام کومشتبہ کرنے کے لئے ایسی گندی حرکات کرتے ہیں۔گویا اپنے خیا ل میں یہ سمجھتے ہیں۔کہ تیری لڑکیوں کو دکھ دیاتوتیراجھوٹاہوناثابت