تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 343

کائنات میں سے کسی جزوکو بطور شہادت کے پیش کرسکے کہ ہرشے اس کے اختیارمیں ہے۔انسان میں کہاں طاقت ہے کہ وہ ایسا دعویٰ کرسکے۔لَعَمْرُكَ میں آنحضرت ؐ کی عمر کی قسم کھائی گئی ہے دوسراسوال اس آیت کے بارہ میں یہ ہے کہ یہ قسم کس کی عمر کی کھائی گئی ہے۔آیاحضرت لوط کی عمر کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کی۔بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت لوط ؑ کی عمرکی قسم کھائی گئی ہے۔اورملائکہ نے کھائی ہے (کشاف زیر آیت ھذا) اور حضرت ابن عباس کاقول ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ یہ قسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کی کھائی گئی ہے اوریہ فضیلت سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کوحاصل نہیں (ابن کثیر زیر آیت ھذا) اسی آیت کی تفسیر کے نیچے۔میرے نزدیک قرآن کریم کی عبارت سے حضرت ابن عباس کے معنے زیادہ درست معلوم ہوتے ہیں کیونکہ کشاف کے معنوں کے رو سے ایک قالوا محذوف مانناپڑتا ہے اورمحذوف اسی جگہ نکالاجاتاہے جہاں سیاق وسباق دلالت کرتے ہوں اور دوسرے معنے نہ ہوسکتے ہوں۔لیکن نہ تویہاں سیاق و سباق مجبور کرتے ہیں کہ اس قسم کو حضرت لوط کی نسبت مانا جائے اورنہ یہ ہی درست ہے کہ اس جگہ دوسرے معنے نہیں ہوسکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب واضح ہے اوراس پر کوئی اعتراض معناً یالفظاً نہیں ہوسکتا۔پس یہی درست ہے کہ ا س جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرکی قسم کھائی گئی ہے یادوسرے لفظوں میں یہ کہ آپؐ کی عمر کے واقعات کواوپر کے واقعہ کے لئے بطور شہادت پیش کیاگیا۔حضرت لوط ؑ کے ذکر کے بعد آنحضرت ؐ کی عمر کی قسم کھانے کا مطلب اصل بات یہ ہے کہ جب حضرت لوط علیہ السلام کا یہ قول بیان کیا گیا کہ دیکھو یہ میری لڑکیاں تم میں موجود ہیں اگر میں تم سے کوئی دھوکہ کروں توتم ا ن کے ذریعہ سے مجھے سزادے سکتے ہو۔تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ایک مشابہت بیا ن کی گئی تھی اوروہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تین بیٹیا ںکفار میں بیاہی ہوئی تھیں۔آپ کے دعویٰ کی وجہ سے انہیں تکلیف دی گئی (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام سعی قریش فی تطلیق بنات الرسول من ازواجھن)۔آنحضرت ؐ کی صاحبزادیوں کو حضرت لوط کی بیٹیوں سے مشابہت اللہ تعالیٰ نے اس مشابہت کی طرف اس واقعہ کو بیان کر کے اشار ہ کیا ہے اور بتایاہے کہ جس طرح حضرت لوط ؑ کی دوبیٹیاں کفار میں بیاہی ہوئی تھیں۔وہی حال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاہے۔اور چونکہ اس مشابہت کے ذکر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کوصدمہ پہنچنا لازمی تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی اس بے انتہا محبت کی وجہ سے جو اسے اپنے رسول سے تھی۔آپؐ کے دل کو تسلی دی اورآپ سے ہمدردی کااظہار کیا۔اورفرمایا کہ اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)اس واقعہ کومعلوم کرکے