تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 335

بولاجاتاہے۔لیکن بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت لوط کو رات کے آخری حصہ میںنکلنے کو کہاگیاہے کیونکہ وہ کہتے ہیں جب رات کاایک حصہ باقی رہ گیاہو تب نکلو۔اس احتیاط میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ تادشمن پیچھانہ کرسکیں۔کیونکہ جس وقت انہیں نکلنے کوکہاگیاہے۔اس کے معاًبعد عذاب آنے والاتھا۔پس اگر ان لوگوںکو حضرت لوط کے نکلنے کے کچھ دیر بعد پتہ بھی لگ جاتا۔تووہ پیچھا نہیں کرسکتے تھے۔حضرت لوط ؑ کو قافلہ کے پیچھے رہنے کے حکم کا مطلب یہ جوکہاکہ توان سب کے پیچھے رہیو۔اس میں رحم کا پہلو ہے کیونکہ عذاب سے اصلی حفاظت نبی کو حاصل ہوتی ہے جب تک حضرت لوط عذاب سے محفوظ نہ ہوتے عذاب نہیں آسکتاتھا۔پس انہوں نے ہدایت کی کہ قافلہ کی کامل حفاظت اسی میں ہے کہ آپ سب کے پیچھے رہیں تاساراقافلہ عذاب سے کلی طور پر محفوظ ہوجائے۔حضرت لوط ؑ کے ساتھ نکلنے والوں کے متعلق بائیبل اور قرآن مجید میں اختلاف اس آیت سے قطعی طور پر ثابت ہوتاہے کہ حضرت لوط ؑپرکچھ لوگ ایمان ضرورلائے تھے۔گوبائبل صرف یہ کہتی ہے کہ ان کی دولڑکیاں ان کے ساتھ نکلی تھیں اور کوئی نہیں(پیدائش باب۱۹آیت ۱۶)مگرقرآن کریم اس کے خلا ف کہتا ہے۔کیونکہ اس آیت میں فرماتا ہے۔وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ نکلنے والے قافلہ کے پیچھے رہو۔اَدْبَارَهُمْ میں ھم کی ضمیر بتاتی ہے کہ حضرت لوط کے ساتھ ایک جماعت تھی اور ھُمْ کالفظ استعمال فرمایا ہے۔جوتین یاتین سے زیادہ مردوں کے لئے ستعمال ہوتاہے۔یامردوںاورعورتوں کی مخلوط جماعت کے لئے استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ جب مرد اورعورت اکٹھے ہوں۔تومذکر کی ضمیر استعمال کی جاتی ہے لیکن اگر مرد تھے ہی نہیں جیساکہ بائبل کہتی ہے تو وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمَا چاہیے تھا یااگردوسے زیاد ہ عورتیں تھیں تو اَدْبَارَھُنَّ کہناچاہیے تھا۔لیکن صرف دولڑکیوںکے لئے اَدْبَارَھُمْ کسی صورت میں استعمال نہیں ہوسکتا۔پس اس آیت سے قطعی طورپر ثابت ہے کہ حضرت لوط کے ساتھ نکلنے والے کچھ اورمرد تھے اس وجہ سے عورتوں اورمردوں کے مخلوط قافلہ کو ھُمْ کی ضمیر سے یاد کیاگیا۔بائیبل میں حضرت لوط کے ساتھ نکلنے والی صرف ان کی دو لڑکیاں بتائی گئی ہیں گوبائبل میں نکلنے کاواقعہ جہاں بیان ہواہے وہاں صرف دولڑکیوں کا ذکر ہے لیکن ایک اورجگہ سے بائبل سے بھی استدلال ہوتاہے۔کہ بائبل کایہ بیان غلط ہے اوروہ اس طرح کہ بائبل میں جہاں ان مرسلوں کے آنے کا ذکر ہے وہاں لکھاہے کہ حضرت ابراہیم نے ان کے جانے کے بعد اللہ تعالی سے دعاکی کہ کیا اگر پچاس راستباز وہاں ہوں تواس قوم کو ان کی