تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 334
ساتھ اورپھر اِنَّالَصٰدِقُوْن کہہ کر زوردیا کہ ہم پر بدگمانی نہ کریں۔ہم اس دعویٰ میں سچے ہیں۔فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ سوتم رات کے آخری حصہ میں (کسی وقت )اپنے گھروالوں کو لے کر (یہاں سے )چلے جائو۔اور(خود)ان کے لَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَيْثُ تُؤْمَرُوْنَ۰۰۶۶ پیچھے (پیچھے)رہو اور تم میں سے کوئی ( اِن کی طرف )التفات(ظاہر)نہ کرے اورجہاں(جانے )کاحکم تمہیں دیاجاتاہے (سب وہاں)چلے جائو۔حلّ لُغَات۔اَسْرِ بِاَھْلِکَ۔اَسْرِ سَرَی سے باب افعال کاصیغہ امر ہے اورسَرَی الرَّجُلُ کے معنی ہیں سَارَ عَامَّۃَ اللَّیْلِ رات کا اکثر حصہ چلا۔اَسْری الرَّجُلُ اِسْرَاءً مِثْلُ سَرَی۔اور اَسْرَی (باب افعال ثلاثی مزید)کے معنے سَرَی (ثلاثی مجرّد )کے ہی ہیں۔وَقِیْلَ اَسْرَی لِاَوَّلِ اللَّیْلٍ وَسَرَی لِاَخِرِ اللَّیْلِ۔اوربعض محققین لغت کہتے ہیں کہ اَسْرَی کافعل رات کے ابتدائی حصہ میں چلنے کے متعلق استعمال ہوتاہے۔اورسَرَی کا فعل رات کے آخری حصہ میں چلنے پر۔اَسْرَاہ واَسْرَی بِہِ (متعدی)کے معنی ہیں۔سَیَّرَہٗ باللّیْلِ اَیْ سَیَّرہُ لَیْلًا یعنےاسے رات کو روانہ کیا۔(اقرب) قِطْعٌ مِّنَ اللَّیْلَ: قِطْعٌ کے معنی ہیں ظُلْمَۃُ آخَرِ اللَّیْلِ رات کے آخری حصہ کی تاریکی۔وَقِیْلَ من اوّلِہٖ الیٰ ثُلثِہٖ اوربعض کے نزدیک رات کے ابتدا سے لے کر رات کے تیسرے پہر کی تاریکی کے لئے یہ لفظ بولاجاتاہے۔(اقرب) اس اختلاف کے لحاظ سے اَسْرِ بِاَھْلِکَ کے معنے ہوں گے کہ رات کے کسی حصہ میں یا ابتدائی یاآخری حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر چلو۔لیکن رات کے آخری حصہ میں جانازیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اگلی آیت میں مُصْبِحِیْنَ کالفظ استعمال ہواہے۔اس لحاظ سے معنے یہ ہوں گے کہ رات کے آخری حصہ میں کسی وقت اپنے گھروالوں کو لے کر چلو۔اگر اَسْرِ سے رات کے آخر ی حصہ میں چلنا مراد لیں۔تو بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ اس کی تشریح ہوگی۔تفسیر۔ان مرسلوں نے حضرت لوط ؑکو ان کے نکلنے کے متعلق تفصیلات سے اطلاع دی۔اوربتایا کہ رات کے آخری حصہ میں یہاں سے نکلیں۔گووضع لغت کے لحاظ سے اِسراء رات کے کسی حصہ میں جانے کے متعلق