تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 333

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ۰۰۶۴ انہوں نے کہا (کہ ایسا)نہیں بلکہ ہم (تو)تمہارے پاس (ہی )آئے ہیں (اور)وہ چیز لے کر(آئے ہیں)جسکے متعلق یہ (لوگ)شک کرتے رہے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَمْتَرُوْن۔یَمْتَرُوْنَ اِمْتَرٰی سے مضارع جمع غائب کاصیغہ ہے اور اِمْتَرٰی فِی الشَّیْءِ کے معنے ہیں شَکَّ فِیہِ: کسی چیز میں شک کیا(اقرب) پس بَلْ جِئْنَاکَ بِمَاکَانُوْا فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ تمہارے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس کے متعلق یہ لو گ شک کرتے رہے ہیں۔تفسیر۔حضرت لوطؑ نے جب کہا کہ آپ تو مسافر اورراہگیر معلوم ہوتے ہیں۔توانہوں نے کہا ہم راہگیرنہیں ہیں بلکہ ایک غرض کے لئے تیرے پاس آئے ہیں۔اوراس چیز کی خبر لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیں یعنی عذاب کی خبر لے کرآئے ہیں۔حضرت لوط ؑ کی قوم کو عذاب کی خبر مرسلوں کے آنے سے پہلے مل چکی تھی اس سے معلوم ہوتاہے کہ عذاب کی خبر لوط کی قوم کو حضرت لوط کے ذریعہ سے مل چکی ہوئی تھی۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ بتانے کے لئے آئے ہیں کہ اب عنقریب ان پر وہ عذاب آنے والا ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیں۔گویا عذاب کی خبر توپہلے ہی اس قوم کو دی جاچکی تھی۔اب یہ لوگ حضرت لوط کو صرف یہ بتانے کے لئے آئے تھے کہ اب اس موعود عذاب کا وقت آگیا ہے۔آپ یہاں سے ہمارے ساتھ چل پڑیں۔وَ اَتَيْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۰۰۶۵ اورہم تمہارے پاس یقینی خبر لائے ہیں اورہم یقیناً سچے ہیں۔حلّ لُغَات۔بِالْحَقِّ۔بِالْحَقِّ الحق کے معنی ہیں یقینی خبر۔مزید تشریح کے لئے دیکھو سورۃ رعد آیت نمبر ۱۵ جلد ھذا۔تفسیر۔مرسلوں کا الحق کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ چونکہ حضرت ابراہیم نے سوال کیاتھا کہ تم مجھے کس بناء پر بشار ت دیتے ہو وہ خود ہی اندازہ لگاتے ہیں کہ حضرت لوط کو بھی شک ہو گا۔کہ یہ لوگ کون ہیں اورکیوں آئے ہیں؟ اس لئے انہوں نے آپ ہی بتادیا۔کہ ہم الحق کے ساتھ آئے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی وحی کے