تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 332
اب ہرعقل مند خود سمجھ سکتاہے کہ کون سابیان عقل کے مطابق ہے۔کیاقرآن کریم کاجو کہتاہے کہ وہ پیچھے ہی رہ گئی تھی یابائبل کا جو کہتی ہے کہ فرشتوں نے پکڑ کر ان کی بیوی کو شہر سے باہر نکالا؟سوال یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس عورت نے تباہ ہونا ہے توا سے پکڑ کرباہر نکالنے کے معنے کیاتھے ؟جس کے متعلق تباہی کافیصلہ تھا اسے فرشتوں نے نکالا کیوں۔کوئی آدمی باہر نکالتا توکہہ سکتے تھے کہ اسے علم نہ تھا۔لیکن فرشتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خبرلے کر آئے تھے باوجود اس علم کے کہ اس عورت نے تباہ ہونا ہے اسے کیوں باہر نکالنے لگے۔فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ ا۟لْمُرْسَلُوْنَ۠ۙ۰۰۶۲ پھر جب وہ (ہمارے)بھیجے ہوئے (لوگ)لوط (اوراس)کے اتباع کے پا س آئے قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ۰۰۶۳ تواس نے (انہیں)کہا (کہ)آپ (اس علاقہ میں) اجنبی (معلوم ہوتے)ہیں۔حلّ لُغَات۔مُنْکَرُوْن۔مُنْکَرُوْنَ اَنْکَرَ سے اسم مفعول مُنْکَرٌ بنتاہے اورمُنْکَرُوْنَ اس کی جمع ہے۔اَنْکَرَہُ کے معنی ہیں جَہِلَہٗ اس کونہ پہچانا۔اَنْکَرَ حَقَّہٗ کے معنی ہیں۔جَحَدَہٗ اس کے حق کاجان بوجھ کر انکار کردیا۔اَنْکَرَ عَلَیْہِ فِعْلَہُ: عَابَہَ وَنَھَاہُ اس کے فعل کومعیوب قرار دیا اوراس سے اُسے روکا۔المُنْکرُ کے معنی ہیں مَالَیْسَ فِیْہِ رِضَی اللّٰہِ مِنْ قَوْلٍ اَوْ فِعْلٍ وَالْمَعْرُوْفُ ضِدُّہٗ۔منکر وہ فعل یاقول ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو اورلفظ معروف (پسندیدہ) اس کے مخالف معنے اداکرنے کے لئے بولاجاتاہے (اقرب)پس اِنَّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ کے ایک معنی ہوئے کہ آپ اس علاقہ میں انجان یااجنبی معلوم ہوتے ہیں۔تفسیر۔مرسلون کے لفظ سے بھیجے ہوؤں کا انسان ہونا ثابت ہوتا ہے قرآن کریم انہیں پھر مُرْسَلُوْن کہہ کر ان کے انسان ہونے کی طر ف اشارہ فرماتا ہے۔بائبل کا عجیب حال ہے کہ کبھی انہیں مردکہا ہے (پیدائش باب ۱۸آیت ۲،۱۶) اور کبھی فرشتے(پیدائش باب ۱۹ آیت ۱)اورباوجود فرشتہ کہنے کے لکھا ہے کہ حضرت لوط نے ان کے لئے فطیری روٹی پکائی اورانہوںنے کھائی( پیدائش باب ۱۹آیت ۳ ) فرشتوں کا فطیری روٹی کھانا ایک عجوبہ ہے اوراس پر دلالت کرتا ہے کہ تورات میں بعد میں بہت کچھ رطب ویابس شامل کردیاگیا ہے۔