تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 331

اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے نہ کہ فرشتوں کے۔پس قدّرنا کے اس جگہ یہ معنے نہیں کہ ہم نے ایسا فیصلہ کیا ہے بلکہ اس کے معنی اس جگہ اندازہ لگانے کے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یاان میں سے کسی ایک کو خواب یا الہام میں جو خبر دی گئی تھی اس میں بیوی کے متعلق گووضاحت نہ تھی مگر استدلال یہی ہوتاتھا کہ وہ نہ بچے گی۔پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے الہام کا ادب کرتے ہوئے اس پر زیادہ زورنہ دیااوراسی قدرکہا کہ ہمارااندازہ الہام الٰہی سے یہی ہے کہ وہ نہ بچے گی۔یایہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تسلی کے لئے اس مضمون پر زیادہ زورنہ دیا اوریہ جھوٹ نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرر کردہ عذابوںکو بدل بھی دیتاہے۔ممکن ہے ان کے دل میں خیال ہو کہ شائد حضرت لوط کی دعاسے بیوی کایہ عذاب ٹل جائے۔پس انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انہی الفاظ میں خبردینی مناسب سمجھی کہ ہمارااندازہ یہ ہے کہ وہ حضرت لوط کے ساتھ نہ جائے گی۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف بھی منسوب فرمایا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔قَدَّرنٰھَامِنَ الغٰبِرِیْنَ۔(النمل :۵۸) اب یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ ادھرخدا تعالیٰ کہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیاتھا اورادھر وہ رسول یا فرشتے جوکچھ بھی چاہو انہیں کہہ لو۔وہ کہیں کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اور انسان کے لئے قدّر کے لفظ کے استعمال میں فرق پس حقیقت یہ ہے کہ جیساکہ لغت میں ہے۔جب خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ آتاہے وہاں فیصلہ کرنے کے معنے ہوتے ہیں اور جب انسانوں کی نسبت آتا ہے وہاں اندازہ یاقیاس کرنے کے معنے ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے قول میں اس کے معنے اندازہ یاتخمین سے بات کرنے کے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کو بچانے کے متعلق قرآن مجید اور بائیبل کا اختلاف بائبل کے بیان اورقرآن کریم کے بیا ن میں یہاں بھی اختلاف ہے بائبل میں لکھا ہے ’’جب صبح ہوئی فرشتوں نے لوط سے تاکید کر کے کہا کہ اُٹھ اپنی جورو اوراپنی دوبیٹیاں جو یہاں موجو د ہیں لے ‘‘(پیدائش باب ۱۹ آیت ۱۵) اورپھر آیت۱۶ میں بیان ہے کہ حضر ت لو ط نے کچھ دیر کی توانہوں نے’’ اس کا اوراس کی جورو کااور اس کی دونو ں بیٹیوں کاہاتھ پکڑا کیونکہ خداوند کی مہربانی اس پر ہوئی۔اوراسے نکال کر شہر سے باہر پہنچادیا۔‘‘لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضر ت لوط کو پہلے ہی خبردے دی گئی تھی کہ وہ ساتھ نہ جائے گی بلکہ پیچھے رہ جائے گی۔قرآن مجید میں حضرت لوط کی بیوی کے پیچھے رہنے کا ذکر چنانچہ فرماتا ہے جب رسول حضرت لوط کے پاس آئے توانہوں نے حضرت لوط سے کہا۔اِنَّا مُنَجُّوْکَ وَاَھْلَکَ اِلّاامْرَاَتَکَ کَانَتْ مِنَ الغٰبِرِیْنَ (العنکبوت:۳۴) یعنے ہم تجھے اورتیرے اہل کوتویہاں سے بچاکرلے جائیں گے مگر تیری بیوی کو نہیں وہ پیچھے رہنے والے گروہ میں ہوگی۔