تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 327
کی بنیاد کیا ہے۔قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ۰۰۵۶ انہوں نے کہا (کہ ) ہم نے تجھے سچی بشارت دی ہے پس توناامید مت ہو۔حل لغات۔قَنَطَ۔قَنَطَ(یَقْنُطُ۔قُنُوْطًا)کے معنے ہیں۔یَئِسَ۔ناامید ہوگیا۔اس سے اسم فاعل قَانِطٌ آتاہے یعنی ناامید ہونے والا۔(اقرب) تفسیر۔انہوں نے کہا ہم نے بلاوجہ بشارت نہیں دی ہم انسان ہیں انسان ہونے کے لحاظ سے ہماراکوئی حق نہیں کہ کوئی بشارت دے سکیں مگریہ بشارت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اورہم اس کے دیئے ہوئے حق یااسی کے مناسب موقعہ ارشادکے ماتحت بشارت دیتے ہیں۔پس تو ناامید نہ ہو۔فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے مہمان بشر تھے نہ کہ فرشتے فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ بشر تھے۔اگرفرشتے ہوتے توحضرت ابراہیم کو ان الفاظ میں خطاب نہ کرتے۔کیونکہ فرشتے توحضرت ابراہیم کے مقام کو خوب جانتے تھے۔ہاں بشرکے لئے ممکن ہے کہ وہ ناواقفیت کی وجہ سے ایساکہہ دے۔قَالَ وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ۰۰۵۷ اس نے کہا(کہ میں کیونکر ناامیدہوسکتاہوں)اورگمراہوں کے سوااپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتاہے تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑ نے ان کایہ فقرہ سن کر کہ تو ناامید مت ہو۔نہایت زوردار الفاظ میں کہا کہ کیا تم مجھے ایساکمزورایما ن والا سمجھتے ہو خدا کی رحمت سے سوائے گمراہوں کے اورکو ن ناامید ہو سکتا ہے؟مگرمیں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل رکھتا ہوں میرے سوال کی غرض تویہ تھی کہ تمہارا مجھے یہ بشارت دینا صرف ایک انسان ڈھکونسلا (جیسے بعض نجومی وغیرہ کہہ دیتے ہیں)یاخدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو خبر ملی ہے۔جب تم نے یہ بتادیا کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر پاکر ایساکہہ رہے ہو تومجھے تمہاری بشارت میں کوئی شک نہیں رہا۔لَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَکے جواب میں حضرت ابراہیم ؑ کی غیرت ایمانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی