تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 28

مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ۰۰۱۲ متعلق عذاب کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس( عذاب) کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہوتا اور اس( یعنی اللہ) کے سوا ان کا اورکوئی (بھی )مددگار نہیں (ہو سکتا)۔حلّ لُغَات۔مُعَقِّبَاتٌ۔عَقَّبَ میں سے ہے اور عَقَّبَہٗ کے معنے ہیں جَاءَ بِعَقِبِہٖ۔اس کے پیچھے پیچھے آیا۔اَتٰی بِشَیْءٍ بَعْدَہُ۔یا اس کے بعد کوئی کام کیا۔عَقَّبَ فُلَانٌ کے معنے ہیں غَزَا عَلَی الْعَدُوِّ ثُمَّ ثَـنَّی مِنْ سَنَتِہٖ کہ دشمن پر ایک حملہ کرنے کے بعد پھر اسی سال دوسرا حملہ کیا۔اور جب عَقَّبَ فِی الْاَمْرِ کہا جاوے تو اس کے معنے ہوتے ہیں تَرَدَّدَ فِیْ طَلَبِہٖ مُجِدًّا کسی بات کی تلاش میں بار بار کوشش کی۔علاوہ ازیں عَقَّبَ کے کئی اور استعمال ہیں۔مثلاً عَقَّبَ فِی الصَّلٰوۃِ۔صَلَّی فَـمَکَثَ فِی مَوْضِعِہٖ یَنْتَظِرُ صَلٰوۃً اُخْرٰی۔نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہا اَ لْحَاکِمُ عَلٰی حُکْمِ سَلَفِہٖ۔حَکَمَ بَعْدَ حُکْمِہٖ بِغَیْرِہِ۔حاکم نے اپنے سے پہلے کے فیصلہ کے بعد کوئی اور فیصلہ کردیا۔اور اَلْمُعَقِّبَاتُ کے معنی ہیں مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ۔دن اور رات کے فرشتے۔التَّسْبِیْحَاتُ یَخْلُفُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔تسبیحات۔کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد آتی ہیں۔اللَّوَاتِیْ یَقُمْنَ عِنْدَ أَعْجَازِ الْاِبِلِ الْمُعْتَرِکَاتِ عَلَی الحَوْضِ فَاِذَا اِنْصَرَفَتْ نَاقَۃٌ دَخَلَتْ مَکَانَہَا اُخْرٰی وہ اونٹنیاں جو اونٹوں کے پانی پر ازدحام کے وقت پیچھے کھڑی رہتی ہیں اور جب ایک اونٹنی پانی پی کر چلی جاتی ہے تو دوسری اس کی جگہ آجاتی ہے۔(اقرب) معقبات سے مراد اس جگہ معقبات سے مراد پہرہ دار اور توابع آگے پیچھے چلنے والے ہیں۔لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ اَیْ مَلَائِکَۃٌ یَتَعَاقَبُوْنَ عَلَیْہِ حَافِظِیْنَ۔مُعَقِّبَاتٌ سے مراد وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو حفاظت کے لئے یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔(مفردات) ــــ؎ مَرَدٌّ رَدَّ کا مصدر ہے اور رَدَّعَنْ وَجْہِہٖ کے معنے ہیں صَرَفَہٗ اس کو پھیر دیا۔عَلَیْہِ الشَّیْءَ۔لَمْ یَقْبَلْہُ رَدَّ عَلَیْہِ الشَّیْءَ کے معنے ہیں۔عطیہ کو قبول نہ کیا اور واپس کر دیا۔اِلَی مَنْزِلِہٖ۔اَرْجَعَہٗ اس کو واپس اس کے مکان ؎ پس لَہٗ مُعَقِّبَاتٌ کے معنے ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آگے پیچھے فرشتوں کی ایک جماعت ہے۔(۲) اس کے لئے دشمنوں کے حملوں کو روکنے والے اور اس کی تائید میں بار بار حملے کرنے والے مقرر ہیں۔(۳) لَہٗ کی ضمیرکا مرجع مَنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ میں لفظ مَنْ ہو تو یہ مراد ہوگی کہ ہر انسان کی حفاظت کے لئے خدا نے پہرہ دار مقرر کر رکھے ہیں۔