تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 310
ہوتے تھے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔تفسیر۔لعنت سے مراد لعنت کے معنی دوری کے ہوتے ہیں۔جولوگ اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے مخالفوں کے سردار ہوتے ہیں۔ان کے نام کو مٹادیاجاتاہے۔اورانبیاء کے ذکر کواجمالاً یاتفصیلاً قائم رکھاجاتاہے اور چونکہ نبوت ایک زنجیر ہے ہراگلانبی اوراس کی جماعت پہلے نبی اوراس کی جماعت کے ساتھ ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ ہی انبیاء کے مخالفین کا ذکربُرے طورپر ہوتارہتاہے اورگونام لے کران پرلعنت نہ بھیجیں۔مگردل ان کے افعال سے اظہارنفرت کرتے رہتے ہیں۔اور چونکہ نبوت کا سلسلہ قیامت تک چلے گا۔اس لئے فرمایاکہ یوم الدین تک تم پر لعنت ہوگی۔آیت اِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ میں عذاب الٰہی کا ذکر نہیں ورنہ عذاب الٰہی کااس آیت میں ذکر نہیں۔کیونکہ وہ توپوری شدت سے یوم الدین کے بعد شروع ہوگا۔قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِيْۤ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۳۷ اس نے کہا (کہ)اے میرے رب (پھر)تومجھے ان کے (دوبارہ)اُٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے حلّ لُغَات۔اَنْظِرْنِیْ۔اَنْظِرْنِیْ اَنْظَرَ سے ہے اوراَنْظَرَہُ الدَّ یْنَ کے معنے ہیں۔اَخَّرَہَ۔قرضدار کو قرضہ اداکرنے میں مہلت دی(اقرب) پس انْظِرْنِیْ کے معنے ہوں گے مجھے مہلت دیجئے۔یُبْعَثُوْن۔یُبْعَثُوْنَ بَعَثَ سے جمع مذکر غائب مجہول کاصیغہ ہے۔اوربَعَثَہٗ(یَبْعَثُ بَعْثًا)کے معنے ہیں اَرْسَلَہٗ اس کو بھیجا۔بَعَثَہُ بَعْثًا اَثَارہٗ وَھَیَّجَہٗ۔اس کو اُٹھایااورجوش دلایا۔بَعَثَ اللہُ الْمَوْتٰی۔اَحْیَاھُمْ اللہ نے مردوں کو زندہ کیا۔بَعَثَہٗ عَلَی الشَّیْءِ حَمَلَہٗ عَلٰی فِعْلِہِ۔اس کو کسی کام کے کرنے پر اُکسایا۔اَلْبَعْثُ۔النَّشْرُ اُٹھانا۔(اقرب) تفسیر۔آدم میں نفخ روح سے مراد نزول الہام ہے جیسا کہ میں بتاچکاہوں ان آیات میں آدم اور دوسرے انبیاء کا ذکر خصوصاً اورابناء آدم کا عموماً ہے۔اورآدم اور دوسرے انبیاء کے نفخ روح سے مراد نزول الہام ہے۔اوربنوآدم کے نفخ روح سے مراد نفس ناطقہ کی تکمیل ہے۔پس اس آیت میں جو یَوْمٌ یُبْعَثُوْنَ آیا ہے اس کے معنے بھی دونوں گروہوں کو مدنظر رکھ کر مختلف ہیں۔بنوآدم کو مدنظر رکھ کر تو اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک ان کی