تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 309

بلکہ کوئی ارضی جنت مراد ہے۔توپھر بھی یہ سوال ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اسے وہاں سے نکال دیاتھا۔تووہ پھرواپس آدم کو ورغلانے کے لئے وہاں کس طرح آسکا۔مِنْهَاسے مراد رضا ءالٰہی کا مقام ہے پس میرے نزدیک نہ صرف اُخروی جنت بلکہ کوئی دنیوی مقام بھی جو جنت کہلا سکے یہاں مراد نہیں۔بلکہ جنت سے مراد وہ رضائے الٰہی کا مقام ہے۔جونبی کی بعثت سے پہلے لوگوں کوحاصل ہوتاہے۔کیونکہ گووہ غلطی پر ہوتے ہیں۔مگرچونکہ ان پر نبی کے ذریعہ سے حجت نہیں ہوئی ہوتی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ محروم نہیں ہوتے۔مگرجب نبی مبعوث ہو جاتا ہے اوراس کاوہ انکار کردیتے ہیںتو پھر افضال الٰہی کی جنت سے وہ محروم ہوجاتے ہیں۔اس کامزید ثبوت یہ ہے کہ سورئہ بقرہ اوربعض دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کو دھوکہ دینے کے بعد ابلیس اور اس کی ذریت کو آدم اوراس کی ذریت کے ساتھ ہی جنت سے نکالاگیا۔پس معلوم ہواکہ سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے شیطان کا جنت سے نکالاجاناکچھ اورمعنے رکھتاہے۔وَّ اِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۰۰۳۶ اورجزا(وسزا)کے دن تک یقیناً تجھ پر (میری)لعنت رہے گی حلّ لُغَات۔اللعنۃ اللَّعْنَۃُ کے لئے دیکھو سورئہ رعدآیت نمبر۲۶۔یوم کے لئے دیکھو سورۃ یونس آیت نمبر۴۔ایَّا مٌ: اَ یَّامٌ یَوْمٌ کی جمع ہے۔اَلْیَوْمُ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ اِلَی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔دن کا وقت الوقت مطلقا۔مطلق وقت جو بھی اور جتنا بھی ہو۔(اقرب) الدِّیْنُ کے لئے دیکھو سورۃ یونس آیت نمبر ۲۳۔الدِّیْنُ۔اَلْجَزَاءُ وَالْمُکَافَاۃُ۔بدلہ اَلطَّاعَۃُ اطاعت۔اَلذُّلُّ۔ذلت ماتحتی۔اَلْحِسَابُ۔محاسبہ۔اَلْقَھْرُوَالْغَلَبَۃُ وَالْاِسْتِعْلَاءُ۔کامل غلبہ۔وَالسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَالْحُکْمُ بادشاہت اور حکومت۔التَّدْبِیْرُ تدبیر۔انتظام وَاِسْمٌ لِجَمِیْعِ مَایُعْبَدُبِہِ اللہِ۔تمام وہ طریق جن سے کوئی قوم خدا تعالیٰ کی عبادت کرتی ہے۔اَلْمِلَّۃُ مذہب و کیش۔یعنی شریعت۔اَلْوَرَعُ۔نیکی۔اَلْقَضَاءُ فیصلہ (اقرب) اس لفظ کے بعض معانی جو یہاں چسپاں نہ