تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 304
فِیْ مَھْمَہٍ فُلِقَتْ بِہِ ھَامَاتُھَا فَلْقَ الْفُئُوْسِ اِذَا اَرَدْنَ نُصُوْلًا یعنے ایک جنگل میں جہاں اس قوم کی کھوپڑیا ںتوڑ ی گئیں جس طرح کلہاڑا جب چلنے کاارادہ کرتاہے۔تو(لکڑیوں کو)کاٹتاجاتاہے۔میں نے کہا۔اس جگہ کلہاڑے کی طرف چلنے کے ارادہ کو منسوب کیا گیاہے۔کیا اس میں اراد ہ ہوتاہے۔یہ شعر پڑھنا تھاکہ ابی فراس کے منہ کو تالے لگ گئے اورخدا تعالیٰ نے اسے ذلیل کیا۔اسی طرح وہ ابو محمد یزیدی کا واقعہ لکھتے ہیں۔کہ میں اورمشہور نحوی کسائی عباس بن حسن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ان کا ایک نوکر آیا اورکہنے لگا۔کہ حضور فلاں شخص کے پاس سے آیا ہوں۔ھُوَیُرِیْدُ اَنْ یَمُوْتَ۔وہ مر نے کااراد ہ کررہاہے اس پر ہم سب ہنس پڑے۔عباس بن حسن نے کہا کس بات پر ہنستے ہو۔ہم نے کہا کبھی کو ئی انسان اپنی موت کا آپ بھی اراد ہ کیا کرتاہے۔انہوں نے کہا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَوَجَدَ افِیْہَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ۔اس پر ہم سب شرمندہ ہوئے اورسمجھ گئے کہ اس غلام کی بات درست تھی۔کسی امر کے اندازہ سے ظاہر ہونے کے لئے بھی قول کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے غرض کسی امر کااندازہ سے ظاہر ہونا بھی قول اور ارادہ کہلاتاہے۔اورواقعہ آدم اورابلیس بھی اسی قسم کاہے۔ان کی عملی حالتوں کو مکالمہ کی شکل میں پیش کیاہے۔اورایسااس لئے کیاگیا ہے کہ یہ واقعہ پرانے زمانہ کا ہے اور پرانے زمانہ میں مجازوتشبیہ کو کثرت سے استعمال کیاجاتاتھا۔اور تمثیل میں بات کرنا سمجھانے کےلئے زیادہ مؤثر سمجھاجاتاتھا۔چنانچہ آدم کاواقعہ مختلف کتب سابقہ میں اسی رنگ میں بیان ہواہے۔پس ان کو سمجھانے کے لئے قرآن کریم نے بھی عربی محاورہ کے مطابق اسی رنگ میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے تاکہ انہیں سمجھنے میںآسانی ہو۔تمثیلی کلام پہلی کتب میں اس قدر استعمال ہواہے کہ صفات الہٰیہ کو بھی تمثیلی رنگ میں ہی بیان کیاجاتاتھا۔مثلاً کہا جاتاتھا خدا تعالیٰ بڑاتیر انداز ہے۔وہ تیز رتھ میں بیٹھ کر ہرجگہ جا پہنچتاہے۔وہ لوگوں کوسزادے کر بڑاپچھتاتاہے۔اس کے ہاتھ بھی ہیں اورپائوں بھی(زبور باب آیت ۱۴۔باب ۱۸ آیت ۹،۱۰۔باب ۱۶ آیت ۱۱۔پیدائش باب ۹ آیت ۱۰،۱۱)۔یہ تمثیلات خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے تھیں۔مگر حقیقت کااظہا ر ا ن سے مقصود نہ تھا بلکہ انسان چونکہ ابتدائی حالت میں تھا۔ان مثالوں سے حقیقت کو اس کے قریب کیاجاتاتھا۔قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس میں اس طریق کو بدلاگیاہے۔اس میں بھی مجاز اوراستعارہ اور تمثیل ہے۔لیکن کہیں کہیں صرف ایک ذوق پیداکرنے کے لئے۔ورنہ اہم امور کوصاف اورواضح زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔اوراگر کوئی تمثیل ہے تو ا سکے مضمون کو دوسری جگہ صا ف عبارت میں بیا ن کر دیاجاتاہے۔