تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 300
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ اور(اے مخاطب اس وقت کو یاد کر)جب تیرے رب نے فرشتوں کو فرمایاتھا(کہ)میں یقینا ً آوازدینے والی مٹی مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۰۰۲۹فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ یعنی سیاہ گار ے سے جس کیہیئت تبدیل ہوچکی ہوایک بشر پیداکرنے والاہوں۔پس جب میں اسے مکمل کردوں رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ۰۰۳۰ اوراس (کے دل)میں اپنا کچھ کلا م ڈال دوں۔توتم سب اس کےساتھ سجدہ کرتے ہوئے (اللہ کے حضور)گرجانا۔حلّ لُغَات۔سَوّیْتُہٗ۔سَوَّیْتُہُ سَوَّی سے متکلم کا صیغہ ہے اورسَوَّی الشَّیْءَ کے معنی ہیں۔جَعَلَہٗ سَوِیًّا اس کو سویّ یعنی بے عیب وبے نقص بنادیا۔غُلَامٌ سَوِیٌّ۔اَیْ لَادَاءَ بِہٖ وَلَا عَیْبَ۔جب یہ لفظ انسان کے لئے بولاجائے۔تواس کے معنے ہوتے ہیں کہ جسمانی طورپر بھی اس میں کوئی نقص نہیں ہے اوراخلاقی لحاظ سے بھی اس میں نقص نہیں ہے۔چنانچہ غلامٌ سویٌّ ٌّ ایسے لڑکے پر بولتے ہیں جس میں اخلاقی اور جسمانی کوئی نقص اورعیب نہ ہو۔وَمِنْہُ رَزَقَکَ اللہُ وَلَدًاسَوِیًّا۔اورانہی معنوں میں یہ فقرہ بطور دعا کے کہاجاتاہے۔کہ تمہیں اللہ تعالیٰ بے عیب لڑکا عطا فرماوے(اقرب) نَفَخْتُ۔نفخت نَفَخَ سے متکلم کاصیغہ ہے۔اور نفخ(یَنْفُخُ نَفْخًا و نَفِیْخًا)بِفَمِہِ کے معنے ہیں۔اَخْرجَ مِنْہُ الرِّیْحَ یعنے منہ سے ہوانکالی۔وَ نَفَخَ فِی النَّارِ و نَفَخَھَا آگ میں پھونک ماری یعنی لفظ نفخ لازم اورمتعدی دونوں طرح استعمال ہوتاہے۔نَفَخَ شِدْ قَیْہِ تَکَبَّرَ۔تکبرکیا(ہمارے ہاں بھی اردو میں کہتے ہیں کہ منہ پھُلالیا)اورجب نَفَخَ الشَّیْطَانُ فِیْ اَنْفِہِ بولاجائے تواس کے یہ معنی ہوتے ہیں۔تَطَاوَلَ اِلیٰ مَالَیْسَ لَہٗ کہ وہ ایسی امید لگابیٹھا جوپوری نہ ہوگی۔یعنی ان چیزوں کے پیچھے پڑ گیا جو اس کو نہیں مل سکتیں۔(اقرب) الرُّوْحُ۔مَابِہِ حَیَاۃُ الْاَنْفُس۔وہ چیز جس کے ذریعہ نفوس زندہ رہتے ہیں۔یعنی جس کو زندگی کہتے ہیں۔الوحی الہام۔جِبْرِیْل،جبرائیل۔اَلنَّفْخُ پھونک۔أَمْرُالنُّبُّوَّۃِ، امرنبوت۔وَحُکْمُ اللہِ واَمْرہُ۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ اوراس کاحکم۔تُطْلَقُ الْاَرْوَاحُ عَلَی مَایُقَابِلُ الْاَجْسَادَ جسم کے مقابل چیز کوبھی روح کہتے ہیں۔(جو انسان میں جسم کے علاوہ موجود ہے )وَعِنْدَ اَصْحابِ الْکِیْمِیَا عَلی الْمَیَاہِ الْمُقَطَّرَۃِ مِنَ الْاَدْوِیۃِ۔کیمیا والوں