تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 293
صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے (بخاری کتاب مناقب الانصار ذکر الجن و قولہ قل اوحی۔۔۔) واپس جاکر جو واقعہ ان کے اوران کی قوم کے درمیان گذرا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن کریم میں فرمایا ہے۔معلوم ہوتا ہے عرب لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے انہوں نے چھپ کررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیار ت کی اورآپؐ سے قرآن سنا۔جب واپس ہوئے۔تودلوں نے گواہی دی کہ آپ سچے ہیں۔اوراپنی قوم میں تبلیغ شروع کردی۔مومن جنّوں کے انسان ہونے کے سات ثبوت اس امر کاثبوت کہ یہ جنّ انسان تھے مندرجہ ذیل ہے۔اول یہ کہ وہ پوشیدہ ملے۔اگر وہ جنّ تھے۔توان کو پوشیدہ اوررات کو ملنے کیاضرورت تھی علی الاعلان ملتے۔توکوئی ان کاکیابگاڑ سکتاتھا۔اورجنّوں کی جوشان بیان کی جاتی ہے۔ا س کے لحاظ سے انہیں دیکھ بھی کون سکتا تھا۔دوسراثبوت دوم قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ(الفتح :۱۰) یعنی مومنو! ہم نے یہ رسول ا س لئے بھیجا ہے کہ تم اس کی مدد اور نصرت کرو۔اورا س کی عزت دنیا میں قائم کرو۔اگر جنات ایمان لائے تھے۔تووہ کس رنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ جنّ لوگوں کے سروں پر چڑھ جاتے ہیں۔اورقسم قسم کے پھل لاکردےدیتے ہیں۔اگر جن کوئی مخفی مخلوق تھے انہوں نے آنحضرت ؐ کی مدد کیوں نہ کی؟ یہ کیسے مومن تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم پر ظلم ٹوٹا۔لیکن کافر جنّوں نے تو حضر ت سلیمان کے لئے قلعے تیار کئے اورہر ذلیل سے ذلیل کام ان کی خاطر کیا۔یہ مومن ایسے طوطاچشم تھے کہ ابوجہل وغیرہ کسی کو انہوں نے سزا نہ دی۔اورپھر یہ جنّ لوگوںکو توبے موسم کے پھل لاکر دے دیتے ہیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر انہیں یہ توفیق بھی نہ ملی جب غزوہ خندق کے موقعہ پر آپؐ پر اور دوسرے مسلمانوں پر فاقے پر فاقے آرہے تھے۔اورآپؐ اورآپؐ کے صحابہ گویاپیٹوں پر پتھر باندھے پھر رہے تھے(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خندق)۔یہ لوگ آپؐ کے لئے اور آپؐ کے صحابہ کے لئے جَوکی روٹیاں ہی لادیتے۔یہ توایما ن کی علامت نہیں بلکہ اول درجہ کی شقاو ت کی علامت ہے۔لیکن قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ وہ ایماندار مخلص تھے۔پس ظاہر ہے کہ نہ ان جنّوںکو جن کا ذکر سورئہ جنّ میں ہے طاقت ہے کہ کسی کے سرپر چڑھیں اورانسانوں پر قبضہ کر سکیں یاانہیں ستاسکیں اور نہ ان میں کسی کو کچھ لاکردینے کی طاقت ہے۔ایسے جنّ صر ف وہمی لوگوں کے دماغ میں ہیں قرآن کریم ایسے جنّوں کو تسلیم نہیں کرتا۔اس نے تو جو جنّ پیش کئے ہیں انہی اقسام کے ہیں جو میں نے بیان کئے۔اوران اقسام میں سے جو جنّ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ یہودی تھے جنہوں نے کلام سنا اپنے گھروں کو چلے گئے۔اورآخر ایمان لانے کافیصلہ کیا اوراپنی