تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 289

مخلوق سمجھتے تھے۔اورانہیں جن اورپریاں کہتے تھے یہ ان کاعام نام تھا۔یہود کا خیال کہ جن شمالی علاقہ میں رہتے ہیں چنانچہ جیساکہ میں اوپر لکھ آیاہوں یہود کایہ عقیدہ تھا کہ جنّ شمالی علاقہ میں رہتے ہیں۔چنانچہ شرکی ربیّ الیعذرنے اپنی کتاب میں یہی لکھا ہے کہ جنّ زیادہ تردنیا کے شمالی علاقوں میں رہتے ہیں۔ہندوؤں نے بھی جنوں کا مقام شمال میں تجویز کیا ہے ہندوقو م نے بھی اپنے شمال میں ہی جنّوں کا مقام تجویز کیا ہے۔چنانچہ جیسا کہ حوالہ گذر چکا ہے ہندوئوں کے نزدیک گندھروا لوگوںکاعلاقہ ہندوستان کے شمال مغرب میں تھااورٹیکسلا شہر جوعلاقہ ہزارہ میں تھا اسے وہ گندھروا کے علاقہ کا شہر کہتے تھے۔اوردریائے سندھ کے شمال کے علاقہ کو ان کامسکن قرار دیتے تھے۔یعنی ہزارہ افغانستان وغیرہ کو۔مسلمانوں میں جو قصے کہانیاں مشہور ہیں ان میں بھی جنّات کامسکن کوہ قاف اوراس کے پار کا علاقہ سمجھاجاتاہے۔شمالی علاقہ کے لوگوں کو جن کہے جانے کی وجہ پس یہ بات ظاہر ہے کہ شمالی علاقوں کے سرخ و سفید لوگ جو تمدّنی حالات کے ماتحت قریباً ایشیا سے بالکل الگ ہوگئے تھے اوربہت کم ادھر آتے تھے اورمذہب اورطورطریق کے لحاظ سے بھی الگ تھے۔ایشیا کے رہنے والوں کے نزدیک جواس وقت تمدن کے حامل تھے جنّ تھے۔کیابلحاظ اپنی شکلوں کے اور کیا بلحاظ ایشیاسے دوررہنے کے (شائد ہندوئوں نے نہ صرف شمال مغربی علاقہ کے ساکنوں کی ظاہری شکل کی وجہ سے بلکہ ان کی قوت اورطاقت کی وجہ سے کہ وہ ہمیشہ ہندوستان پر حملہ کرتے رہتے تھے ان کو جنّ قرار دیا)۔سورۃ رحمٰن میں شمالی لوگوں کو جن کہا گیا ہے اسی محاورہ کے مطابق قرآن کریم میں بھی سورئہ رحمن میں ان شمالی لوگوں کویعنی یورپ کے باشندوں کو جنّ کہا ہے۔اس سورۃ میں آخر ی زمانہ کے تغیرات کا ذکر ہے اوربتایا گیا ہے کہ اس وقت دومشرق اوردومغرب ہوجائیں گے یعنی امریکہ کی دریافت سے دو علاقے مشرق اوردو مغرب کہلانے لگیں گے۔اسی طرح نہر سویزکے ذریعہ دوسمندروں کے ملنے اوربڑے بڑے جہازوں کے چلنے کی خبردی گئی ہے اسی طرح بتایا ہے کہ اس وقت سائینس کی ترقی کے ساتھ لو گ آسمانی بادشاہت کو فتح کرنے کے خیال میں مشغول ہوں گے اورسمجھیں گے کہ وہ جلد کائنات کاراز دریافت کرنے والے ہیں۔اس وقت آسمان سے آگ گرے گی اوربم گریں گے اورسرخ روشنیاں آسمان پر چھوڑی جائیں گی اورآخر کفر اورشرک کو تباہ کرکے اسلام کو غلبہ دیاجائے گا۔اس مضمون کے سلسلہ میں جنّ و انس کو بھی مخاطب کیاگیا ہے اورجنّ سے مراد وہی شمالی علاقوں کے لوگ یعنی یورپین