تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 287

جس قسم کے جن عوام مانتے ہیں ان کا وجود خیالی ہے اس کا ثبوت کہ لوگ جس قسم کے جن مانتے ہیں ان کاوجود خیالی ہے۔سورہ سباء کی آیت سے وضاحت سے ملتاہے۔فرماتا ہے۔وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰؤُلَآءِ اِيَّاكُمْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ۔قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَوَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔(سبا :۴۱۔۴۲)یعنے یادکرو جب اللہ تعالیٰ سب انسانوں کو جمع کرے گا پھر ملائکہ سے کہے گاکہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے ؟وہ جواب میں کہیں گے کہ تُوپاک ہے اورتُوہی ہمارادوست ہے ان سے ہماراکوئی بھی تعلق نہیں یہ بات غلط ہے کہ یہ ہماری عبادت کرتے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنّوں کی پرستش کرتے تھے اوران میں سے اکثر ان پر ایمان لاتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا ملائکہ کے معبود بنائے جانے کے متعلق ملائکہ سے سوال سوال یہ ہے کہ اگر انسان جنوں کی پرستش نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے پوچھاکیوں؟ اللہ تعالیٰ کی ہستی تو عالم الغیب ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی مشرک بھی فرشتوں کی عبادت نہ کرتاہواوراللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے کہ کیا یہ تمہاری پوجا کرتے تھے نیز اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ کسی جہت سے بھی نہیں کہاجاسکتاکہ لو گ فرشتوں کواُلوہیت کادرجہ دیتے ہیں۔توپھر اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے جواب طلب کرنا ظلم بن جاتا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خود قرآن کریم فرماتا ہے فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَ۔اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ۔(الصافات:۱۵۰،۱۵۱)یعنے ان سے پوچھ کہ تمہارے توبیٹے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔کیا اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو مؤنث بنا کر پیدا کیاتھا تویہ لوگ اس وقت موجود تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ فرشتوںکو مشرک اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے اوریہ ظاہر ہے کہ خدا کی بیٹی بھی خدا ہی قرار پائے گی اورقابل پرستش سمجھی جائے گی جیسے حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کابیٹا کہاجاتاہے۔اورقابل پرستش سمجھاجاتاہے۔چنانچہ سورئہ نحل آیت ۵۸ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے شرک کے ذکر میں بیان فرمایا ہے وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنَاتِ سُبْحٰنَہٗ اوریہ لوگ اس طرح بھی شرک کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قراردیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ایسے نقص سے پاک ہے۔کفار ملائکہ کی پرستش نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے جنوں یعنی خیالی وجودوں کا نام ملائکہ رکھ لیا خلاصہ یہ کہ اگر مشرک ملائکہ کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں قراردیتے تھے اوراگرکسی کو خدا تعالیٰ کی بیٹی یابیٹاقراردینا شرک ہے توپھر ملائکہ کس طرح کہتے ہیں کہ الٰہی یہ لوگ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ پر سے اعتراض اٹھ کر فرشتو ں پر اعتراض پڑ جاتاہے۔مگرغور کیاجائے تو ان پر بھی اعتراض نہیں پڑتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کاسوال ظاہر پر