تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 286

جنوں کا آنحضرت ؐ کی مجلس میں حاضر ہونا (۱۵)جنّ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے اورقرآن سنا۔فرماتا ہے۔وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ (الاحقاف :۳۰) اورجبکہ ہم جنوں کی ایک جماعت کو تحریک کرکے تیرے پاس لائے تاکہ وہ قرآن سنیں پھر جب وہ قرآن سنانے کی مجلس میں حاضرہوئے توانہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ خاموش(ہوکر قرآن سنو)پھر جب قرآن کی تلاوت ختم ہوئی تووہ اپنی قوم کی طرف چلے گئے تاکہ وہ انہیں ہوشیار کریں۔سورئہ جنّ میں بھی بیان فرمایا ہے قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا (الجن:۲) میری طرف وحی کی گئی ہے کہ کچھ جنّوں نے قرآن سنا تو اپنی قوم کو جاکرکہا کہ ہم نے ایک عجیب (پُرلطف) تلاوت سنی ہے (۱۶)جنّات آپؐ پر ایمان لائے۔چنانچہ اوپر کی آیت کے بعدہی ان جنّوں کاقول بیان کیا ہے کہ فَاٰمَنَّا بِہٖ ہم اس کلام پر ایمان لے آئے ہیں۔یہ وہ مضامین ہیں جو جنات کے متعلق آتے ہیں۔قرآن کریم میں جن کا لفظ ارواح خبیثہ پر اور ان وجود وں پر جن کی کفار پوجا کرتے تھے بولا گیا ہے میرے نزدیک ان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جنّ قرآن کریم میں کئی چیزوں کانام رکھا گیا ہے اول جنّ بعض ارواح خبیثہ کانام رکھا گیا ہے۔جوشیطانی خیالات کے لئے اسی طرح محرّک ہوتی ہیں۔جس طرح کہ ملائکہ نیک تحریکوں کے محرّک ہوتے ہیں۔گویا وہ شیطان جو بدی کا محرّک ہے و ہ اس کے اظلال اورمددگار ہیں۔یہ مضمون سورۃ الناس کی آیت سے نکلتا ہے جیساکہ فرمایا اَلَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔(الناس:۶۔۷) دوم۔ان خیالی وجودوں کانام جنّ رکھا گیا ہے جن کی کافرلوگ پوجاکرتے تھے۔ان وجودوں کی تصدیق نہیں کی بلکہ صرف یہ بتایاہے کہ کفار بعض ایسے وجود فرض کرتے ہیں اوران کی پوجا کرتے ہیں اوران کی یہ غلطی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدہ کی کہ واقع میں ایسے جنّ ہوتے ہیں تصدیق کرتاہے بلکہ صرف ان کا عقیدہ بیان کرتاہے کہ وہ ایسے وجود مانتے ہیں اوران کی پوجا کرتے ہیں اس کاثبوت سورئہ انعام کی آیت وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَيْرِ عِلْمٍ(الانعام:۱۰۱) یعنے مشرک لوگ جنو ں کو اللہ تعالیٰ کاشریک قرار دیتے ہیں حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے اوراللہ تعالیٰ کے بیٹے اوربیٹیاں بغیر علم کے تجویز کرتے ہیں۔اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ وَخَلَقَھُمْ سے تومعلوم ہوتاہے کہ ایسے جنوں کاوجود ہے اورانہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیاہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ وَخَلَقَھُمْ حال جَعَلُوْا کی ضمیر کاہے نہ کہ جنوں کا اورمراد یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پیدا کیاہے یہ کہتے ہیں کہ جن اللہ تعالیٰ کا شریک کار ہیں۔