تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 285

اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ (الانعام :۱۲۹) اے جنوں کی جماعت تم نے بہت سے انسانوں کو خراب کیاہے (۱۱)جنّ دوزخ میں بھی جائیں گے فرماتا ہے۔قَالَ ادْخُلُوْا فِٓیْ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِنَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ(الاعراف :۳۹) یعنی جب فرشتے کفار کی جان نکالتے ہیں۔توان سے کہتے ہیں کہ تم سے پہلے جو جنّ اورانسان فوت ہوچکے ہیں ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجائو نیز فرمایا۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ (الاحقاف :۱۹)یعنی یہ کفاربھی ان گروہوں میں جاشامل ہوں گے جوجنّوں اورانسانوںمیں سے پہلے گذر چکے ہیں۔اورجن پر اللہ تعالیٰ کی حجّت پوری ہوچکی ہے اوروہ عذاب کے مستحق قرار پاچکے ہیں یہ سب لوگ گھاٹاپانے والے ہوگئے یہی الفاظ حَقَّ سے لے کر خَاسِرِیْنَ تک سورئہ حٰم سجدہ آیت ۲۶میں بھی مذکور ہیں۔نیز فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖٞ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا(الاعراف :۱۸۰)اورہم نے بہت سے جنّوں اور انسانوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اوریہ وہ ہیں کہ جن کو دل دئیے گئے مگرانہوںنے ان سے سمجھنے میں کام نہ لیا۔انہیں آنکھیں دی گئیں مگرانہوں نے ان سے دیکھانہیں۔انہیں کان تو دیئے گئے لیکن انہوں نے ان سے سنا نہیں۔(۱۲) بعض انسان بعض جنّات کی پناہ میں رہتے ہیں اوراس وجہ سے جنّ مغرورہوجاتے ہیں وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا(الجن:۷)یعنےحقیقت یہ ہے کہ کچھ مردانسانوں میں سے جنّوں کے مردوں کی پناہ لیتے تھے اس طرح انہوں نے جنّوں کواور بھی ظلم اورگناہ میں بڑھادیا۔(۱۳)جنّ انسانوں کاکام بھی کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت سلیمان کے ماتحت وہ کام کرتے تھے۔فرماتا ہے۔وَ حُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ (النمل:۱۸)سلیمان کے حکم کو پوراکرنے کے لئے جنّوں اورانسانوں کے لشکر جمع کئے گئے۔نیز فرماتا ہے۔وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ(سبا:۱۳)اورجنوں میں سے بھی ایک جماعت اِن کی نگرانی میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے کام میں لگی ہوئی تھی۔نیز فرمایا۔قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَااٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ (النمل :۴۰) اورجنّوں میں سے ایک نہایت سمجھ دار کار گذار جنّ نے کہا کہ میں آپ کی مطلوبہ شے (ملکہ سباء کا ساتخت) آپ کے اس مقام سے کوچ کرنے سے پہلے حاضرکرسکتاہوں (۱۴)جنّ قرآن کی مثال نہیں بناسکتے فرماتا ہے۔قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا (بنی اسرائیل :۸۹) توکہہ دے کہ اگر انسان او رجنّ مل کر بھی اس قرآن کی مثل بناناچاہیں تونہیں بناسکتے خواہ وہ دونوں مل کر ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کریں۔