تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 281

سے یاصرف جسم پر ملنے سے اثر کرجاتے ہیں۔تفسیر۔جانّ جیساکہ لغت سے ظاہر ہے جنّ کا اسم جنس بھی ہے اوراس کے معنے پردہ ڈالنے والے یااندھیر اکردینے والے کے بھی ہیں۔اورتاریک ہو جانے اورپوشید ہ ہونے کے بھی۔پس وضع لغت کے لحاظ سے ہر وہ شے جو دوسری شے کو پوشیدہ کردے۔اس پر پردہ ڈال دے یاتاریک کردے وہ جنّ ہے۔یاہر وہ شے جو خود تاریکی میں بڑھ جائے یا نظرو ں سے پوشیدہ ہویاپوشیدہ ہوجائے جنّ ہے۔جنوں کے متعلق عام لوگوں کا خیال عام خیال کے مطابق جنّ ایک ایسی مخلوق ہے جوانسانو ںکو نظرنہیں آتی سوائے اس کے کہ وہ خود اپنے آپ کو ظاہر کرے۔اس قسم کی مخلوق کے متعلق دنیا میں عام خیا ل پایا جاتا ہے بعض قومیں یہ عقیدہ رکھتی ہیں کہ فرشتے ہی اچھے اور بُرے ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ فرشتوں اورشیطانوں یا جنّوں کو فرشتو ں کی دو قسمیں قرار دیتے ہیں۔جنوں کے متعلق ہندوؤں کا عقیدہ ہندوئوں میں یہ خیال پایاجاتا ہے کہ گندھروا اوراپسرا دو قسم کی ارواح ہیں جو نظرنہیں آتیں۔گندھرواخشکی کی روحیں ہیں اوراپسراسمندری روحیں ہیں۔دونوں کے ملنے سے نسل انسانی چلی ہے۔چنانچہ ان کے نزدیک گندھروا اوراپسرا سے یامااوراس کی توام بہن یامی پیداہوئی اوریہ پہلا انسانی جوڑا تھا۔گندھروا کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ان کی الگ زمین ہے اورالگ گھوڑے ہیں اودریائے سندھ کے اس پار رہتے ہیں۔چنانچہ ان کے نزدیک ٹکسلا کاشہر بھی گندھروادیسا میں ہے (انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ گندھروااورجلد دوم زیر لفظ اپسراAPSARAS) جنوں کے متعلق زردشتیوں کا عقیدہ زردشتیو ںمیں بھی یہ خیال پایا جاتا ہے مگر کسی قدر اختلاف کے ساتھ۔ان کے نزدیک خدادوہیں ایک نیکی کا خدااوراس کانام اہرمزدہے اورایک بدی کا خدااس کانام اہرمن ہے۔نیکی کے خدا کا بھی ایک لشکر ہے۔جن کو فرشتے کہناچاہیے۔اسی اہرمن کابھی ایک لشکر ہے جسے ہماری اصطلاح میں شیطانوں کی جماعت کہناچاہیے۔یونانیوں میں بھی بعض اچھی اوربری ارواح کاخیال پایاجاتاتھا۔چنانچہ فیثا غورس اورافلاطون کے تابعین میں یہ خیال پایاجاتاتھاکہ انسانوں کے علاوہ بعض نہ نظر آنے والی ارواح ہیں جن میں سے کچھ بداور کچھ نیک ہیں۔(انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیرلفظ ڈیمن DEMONS) یہود میں فرشتوں اورشیطانوں کی صورت میں نہ نظر آنے والی ہستیوں کے وجود کااقرارپایاجاتا ہے چنانچہ