تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 277
دونوں طاقتوں کاپایاجانا اورپھر اس میں دونوں پر قبضہ پانے کی قابلیت کاہونا بتاتا ہے کہ انسان کو دنیا پر حکومت کرنے کے لئے بنایا گیا تھاپس اس کی زندگی کانتیجہ اس کے عمل سے کچھ زیادہ ہوناچاہیے اوراس کا تقاضا حشرہے۔(۳)اس دنیا کی ترقیات طبعی قوانین سے وابستہ ہیں نہ کہ اخلاقی اور روحانی امور سے اورانسانی پیدائش صاف طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ اس کے وجود کا بڑ اجزو اخلاقی اور روحانی حالات ہیں۔پس اس دنیا کی ترقیات اس کے لئے منزل مقصود نہیں ہوسکتیں اوراخلاقی اور روحانی قربانیوں کے لئے کوئی اورمقام جزاہوناچاہیے۔یہ جو فرمایا ہے مِنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ اس سے یہ بتایاگیا ہے کہ انسان کی پیدائش پانی اورمٹی سے ہے کیونکہ حَمَائٍ مٹی اورپانی کی ملی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔دوسری جگہوں پر خدا تعالیٰ نے علیحد ہ علیحدہ ان دونوں چیزوں سے پیدائش کا ذکر کیا ہے۔مثلاًپانی کے متعلق فرمایا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ (الانبیاء :۳۱)د وسری جگہ مٹی سے پیدائش کویوں ظاہر فرمایا ہے کہ اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ(آل عمران :۶۰) ان دونوں آیتوں میں توپیدائش کا ذکر علیحدہ علیحدہ طور پر پانی اورمٹی سے کئے جانے کاکیا ہے۔مگریہاں سورۃ الحجر میں دونوں کو جمع کردیا ہے کہ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے انسان پیداہواہے۔یعنی اس مٹی سے جس میں پانی ملایاگیا اورپھر ایک خاص صورت دے کر اسے بولنے کے قابل بنایاگیا چنانچہ مِنْ صَلْصَالٍ کہہ کر قوت ناطقہ کی طرف واضح طور پر اشارہ کردیاگیا ہے۔اوربتایاہے کہ ایک حد تک سب ہی حیوانوں کی پیدائش حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے ہوئی ہے۔لیکن انسانی پیدائش میں حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ کی صفت صلصالیت کاظہور نمایاں ہے۔اسی لحاظ سے انسان کو حدیث میں صالّۃ بھی کہاگیا ہے۔اور وہ بھی صلصال کی طرح کالفظ ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ صال کالفظ تو انسان کے لئے بولاجاوے مگر صلصال کالفظ نہ بولا جائے اس لفظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کابولنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کیونکہ صلّ یا صلصل ایسی آواز پر دلالت کرتاہے جو ٹھکورنے سے پیداہوتی ہے اوریہی حقیقت انسان کی ہے کہ وہ کلام جس کی خاطراس کو پیدا کیا گیا ہے وہ اس میں سے تبھی پیدا ہوتاہے جب اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھکوراجاتاہے یعنی الہام الٰہی نازل ہوتاہے اوراس کو مشکلات اورمشقتوں سے گذاراجاتاہے۔انسان کےمِنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے بنائے جانے کا مطلب اوریہ جو فرمایاکہ انسان حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے بنایاگیا۔اس کایہ مطلب نہیں کہ وہ بے جان مٹی سے بن گیاہے بلکہ(۱) چونکہ حیوانی مادہ بغیر جسم کے ترقی نہیں کرسکتا اور جسم مٹی سے بنتا ہے اس لئے اس کی طر ف اشارہ کیاہے کہ تاانسان کومعلوم ہو کہ اس کی ابتداء کہاں سے