تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 276
ہر سورۃ کی کنجی ایسا ہی ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ بِسْمِ اللہ ہرایک سورۃ کی کنجی ہے۔تبھی ہر سورۃ کے ساتھ نازل ہوئی ہے(سورہ توبہ علیحدہ کوئی سورۃ نہیں بلکہ انفال کا حصہ ہے )یہ تو ایک ضمنی بات بیان ہوگئی۔حشر اور آدم کے واقعات میں گہرا تعلق میں یہ کہہ رہاتھا کہ ہر جگہ حشر کے ساتھ آدم کامذکورہونا بتلاتاہے کہ ان دونوں امور میں گہراتعلق ہے۔وہ تعلق کیا ہے؟ حشر اور آدم کے واقعات کا پہلا تعلق اول تویہ تعلق ہے کہ حشر اجساد کامسئلہ کلی طور پر آدم کی پیدائش کے ساتھ وابستہ ہے۔کیونکہ اگر ایک عاقل و قادروجود نہ ہو توحشر اجساد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حیوانات کسی شریعت پر عامل نہیں کیونکہ وہ معذور ہیں۔اس لئے کسی سزاجزاکے مستحق نہیں اور کسی حقیقی حشر کے محتاج نہیں۔فرشتے بھی کسی جزاوسزا کے مستحق نہیں کیونکہ گووہ نیک ہیں لیکن بہرحال مجبورہیں اوریَفْعَلُوْنَ مَایُؤمَرُوْنَ (نحل :۵۱)کے مقام والا کسی حشر کا محتاج یا مزید جزاء کا مستحق نہیں ہوتا۔شیطان کی پیدائش انسان کے تابع ہے۔مگر بہرحال انسان کے سواجو بھی شیطان ہے وہ کسی سزا کا مستحق نہیں کیونکہ اپنا فرض پوراکررہاہے۔جس طرح ا س دنیا کی گندی اشیاء سزا کی مستحق نہیں کہ وہ کیوں گندی ہیں۔اسی طرح انسان کے سوا جو شیطان ہیں۔و ہ بھی سزاکے مستحق نہیں ہاں جو انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ ضرور سزا کے مستحق ہیں اورحشر انہی بد انسانوں اورنیزنیک انسانوں کے لئے مقرر کیاگیا ہے۔خلق انسان حشر کی دلیل ہے پس پیدائش انسانی ہی حشر کاموجب ہے۔اور اس وجہ سے ہرجگہ جہاں آدم کی پیدائش کا ذکر ہے اس سے پہلے حشر کا ذکر کیاگیاہے تابتایاجائے کہ انسانی پیدائش کا تقاضاہے کہ کوئی حشر ہو اورحشر کا تقاضا ہے کہ کوئی شریعت ہو ورنہ بغیر حجت کے سزاجزابے معنی ہوجاتی ہے۔دوسرا تعلق دوسراتعلق ان دونوں مضامین کا یہ ہے کہ خلق انسانی حشر کی دلیل ہے۔میں بعض دلائل اس دعویٰ کی تائید میں ذیل میں درج کرتا ہوں :۔(۱) انسانی پیدائش کائنات کی ادنیٰ ترین حالتوں سے ترقی کرکے مکمل ہوتی ہے۔پس یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی دارالجزاء بھی ہے۔اگر انسان پہلے سےہی ایک خلقت میں پیدا ہوتا۔توکہا جاسکتاتھا کہ یہ اتفاقی واقعہ ہے دوسری چیزیں بھی طبعی تغیرات کے نتیجہ میں بن گئی تھیں۔یہ بھی بن گیا۔لیکن ادنیٰ حالتوں سے مختلف تغیر ات کے بعد انسان کابننا اورانسان کے بن جانے کے بعد نئی مخلوق کے لحاظ سے ترقی کارک جانا یہ بتاتا ہے کہ انسانی پیدائش ایک ارادے کے ماتحت تھی اورتخلیق کا مقصود تھی۔(۲) دنیا میں دوطاقتو ں کاوجود پایا جاتاہے ایک طاقت خیر کی ہے اوردوسری شرّ کی ہے۔انسان کے اند ران