تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 275
یعنی رکوع اول میں توحشر کا ذکر ہے اور رکوع دوم میں آدم کی خلق کا۔(۳)الحجر کی زیر تفسیر آیت میں بھی ایسا ہی ہے کہ پہلے حشر کا ذکر ہے اوربعد میں ساتھ ہی خلق آدم کا(۴)سورہ کہف میں بھی خلق آدم کا ذکر ہے۔وہاں بھی پہلے جزاوسزااورمر کر اُٹھنے کا ذکر ہے۔پھر خلق آدم کا۔فرمایا وَ يَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا۔وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١ٞ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا۔(الکہف:۴۷ ، ۴۹)اورپھر فرمایا وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ الآیۃ (الکہف:۵۱) (۵) طٰہٰ میں جہاںآدم کا ذکر ہے وہاں پر بھی رکوع ۵ میں حشر کا ذکر ہے فرماتا ہے يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا(طٰہٰ:۱۰۳) اوراس کے آگے تفصیلات بھی حشر کی بیان ہو ئی ہیں۔پھر رکوع چھ کے آخر میں اوررکوع سات میں آدم کی پیدائش کا ذکرشروع ہوگیا ہے۔فرماتا ہے وَلَقَدْ عَھِدْنَااِلیٰ اٰدَمَ(طٰہٰ:۱۱۶) الآیہ(۶)سورئہ ص میں بھی دوزخ و جنت کا ذکر کرکے حضرت آد م ؑ کا ذکر کیاہے۔(رکوع۴و۵)غرض ان ساری آیات پر غور کر نے سے ایک معاند قرآن بھی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم کے نازل کرنے والے کے ذہن میں کوئی ترتیب ضرور ہے اوروہ لو گ جو کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی ترتیب نہیں وہ غلطی پر ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ موسیٰ اوردیگر انبیاء کا ذکر تو بغیر حشر کے ذکر کے آجائے مگر جہا ں بھی حضرت آدم کی پیدائش کا ذکر آئے اس سے پہلے حشر کا ذکر ضرورہو۔خواہ وہ منکر اس ترتیب کو سمجھے یانہ سمجھے۔بہر حال اس پر اس قدر تو ضرور ثابت ہو جائے گاکہ قرآن کریم کے نازل کرنے والے کے ذہن میں ضرور کوئی خاص ترتیب تھی جس کی وجہ سے آدم ؑکا ذکر ہمیشہ حشر کے ذکر کے ساتھ آتاہے۔قرآن کریم میں اسلام کی آئندہ ترقی کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر قرآن کریم میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ کئی جگہ پر ایک ہی طرز کا ذکر بار بار ہوتاہے۔مثال کے طور پر میں ایک بات کو بیان کرتاہوں کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں اسلام کی آیندہ ترقی اورعالمگیر تبلیغ کا ذکر آتاہے وہاں پر ضرورحضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر آتا ہے۔تمام قرآن کریم میں تین جگہ یہ ذکر ہے اورتینوں جگہ مسیح علیہ السلا م کا ذکر ہے۔سورۃ بقرۃ کی کنجی میرے نزدیک قرآن کریم کے مضامین کی ایک نہ ایک کنجی ضرور ہوتی ہے۔بعض وقت اس کنجی کا علم الہام کے ذریعہ سے ہو جاتا ہے۔اوربعض وقت انسان خود غوروفکر کرکے اپنی عقل سے مددلے کر اس کو پالیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ بطور القاء بتایاگیاتھا کہ سورہ بقرہ کی کنجی يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ والی آیت ہے۔چنانچہ میں نے اس کنجی کی مدد سے تمام بقرہ کو حل کرلیاتھا۔