تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 274

مسنون کے معنے صورت والی شے کے میں نے مسنون کے معنے صورت والی شے کے کئے ہیں گوعام طور پر مفسر اس کے معنے سڑی ہوئی شے کے کرتے ہیں (بحر محیط زیر آیت ھذا)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جیساکہ علامہ ابوحیان نے لکھا ہے سڑنے کے معنے اَسَنّ سے پیدا ہوتے ہیں جو رباعی مزید کاصیغہ ہے اوراس سے اسم مفعول کا صیغہ مسنون نہیں بلکہ مُسَنٌّ بنتا ہے۔سَنَّ کے معنے ایک طریق کوجارے کرنے یاصورت دینے یاتیز کرنے یا مٹی کو پکاکر اسے ایسا بنادینے کے ہوتے ہیں کہ وہ آواز دینے لگے۔مسنون کے معنی سڑی ہوئی مٹی کے مجازی ہیں پس سڑی ہوئی مٹی کے معنے ایک مجازی معنی ہیں۔حقیقی معنے ایک خاص شکل پر بنائی ہوئی شے یاآواز دینے کے قابل بنی ہو ئی شے کے ہیں۔الہام الٰہی کو عجیب سمجھنے والوں کو جواب اس آیت میں ان لوگوںکا جواب دیا ہے جو الہام الٰہی کو عجیب سمجھتے ہیں اورحیرت کرتے ہیں کہ انسان کو الہام ہو کس طرح سکتاہے اورفرمایاکہ تعجب کے قابل یہ بات نہیں کہ الہام کیونکر ہوتا ہے تعجب اس بات پر ہونا چاہیے کہ کسی کو الہام کیوں نہ ہو۔کیونکہ انسانی پیدائش کی ابتداء سے الہا م کی قابلیت انسان میں رکھی گئی ہے اوراس کی پیدائش کی غرض ہی یہ تھی کہ وہ کامل ہو کر الہام الٰہی کو حاصل کرے پس اس پر تعجب نہ کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الہام کیونکر ہوگیا۔یا اس الہام کی حفاظت کے لئے آئندہ اس کے اَتْباع کو کس طرح الہام ہوگا۔تعجب اپنی حالت پر کرو کہ من صلصال ہوتے ہوئے تم کو کیوں الہام نہیں ہوتا۔اوراپنی حالت کے بدلنے کی طرف توجہ کرو۔قرآن کریم میں جہاں خلق آدم کا ذکر ہے اس سے پہلے حشر کا ذکر یا بعث بعد الموت کا ذکر اس آیت سے پہلی آیت یہ ہے وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ۔اس کے بعد اس آیت میں خلق آدم کا ذکر شروع کیا ہے۔یہ کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ جہاں بھی خلق آدم کا ذکر ہے اس سے پہلے حشر کا ذکر یابعث بعدالموت کے واقعات میں سے کسی حصہ کا ذکر ضرورموجو دہے۔بقرۃ اور اعراف میں آدم کی پیدائش کا ذکر چنانچہ(۱)بقرہ میں آدم کی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔اس سے پہلے فرمایا ہے۔کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (البقرۃ:۲۹)۔تم اللہ تعالیٰ (کی طاقتوں )کاکس طرح انکار کرتے ہو۔حالانکہ تم پہلے بے جان تھے۔اس نے تم کو جان دی پھروہ تم کو مارے گا اورپھر زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جا ئوگے۔یہاں بھی موت حیات اورپھر اس کی طرف جانے یعنے حشر کا ذکر ہے (۲)سورئہ اعراف میں آدم کا ذکر ہے وہاں بھی اس سے پہلے حشر کا ذکر کیا ہے