تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 271
معنی ہوں گے کہ گھنٹی میں سے سُردار (یعنی وہ جو ٹن کر کے لمبی آواز نکلتی ہے )آواز نکلی۔صَلْصَلَ فُلَانًا۔اَوْعَدَہُ وَھَدَّدَہُ۔صَلْصَلَ فُلَانًا کے معنے ہیں کہ اس کو ڈرایا اوردھمکایاجب صَلَصَلَ زَیْدٌ کہیں۔تواس کے معنے ہوں گے۔قَتَلَ رَئِیْسَ الْعَسْکَرِ زید نے لشکر کے سردار کو قتل کیا (کیونکہ سردار کے قتل کرنے سے ایک شور پڑ جاتاہے ) صَلْصَلَ الرَّعْدُ۔صَفَاصَوْتُہُ۔بجلی کی آواز میں سریلی گونج پیداہوئی اورصَلْصَالَ کے معنے ہیں الطِّیْنُ الْحُرُّ خُلِطَ بِالرَّمْلِ وَقِیْلَ الطِّیْنُ مَالَمْ یُجْعَلْ خَزَفًا وہ مٹی جو خالص ہو اورا س کے ساتھ ریت ملی ہوئی ہو اوربعض کہتے ہیں کہ وہ مٹی جو پکائی نہ گئی ہو (اقرب)۔اورتاج العروس میں اس کے یہ معنے کئے گئے ہیں کہ صَلْصَلَ اللِّجَامُ وَکَذٰلِکَ کُلُّ یَابِسٍ یُصَلْصِلُ امْتَدَّ صَوْتُہُ کہ لگام سے سُردار آواز نکلی اورایسے ہی ہر خشک چیز سے جو سُر دارآواز پیداہو اسے صَلْصَالٌ کہتے ہیں۔وَفِی رِوَایَۃٍ اَحْیَانًا یَأْتِیْنِیْ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرْسِ۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاکبھی وحی مجھ پر اس طرح نازل ہوتی ہے جیسے گھنٹی کی لمبی آواز۔وَالصَّلْصَالُ:الطِّیْنُ الحُرُّ خُلِطَ بِالرَّمْلِ فَصَارَ یَتَصَلْصَلُ اِذَاجَفَّ اورخالص مٹی جس میں ریت ملادی گئی ہو اسے صَلْصَال کہتے ہیں فَاِذَاطُبِخَ فِی النَّارِ فَھُوَ الفَخَّارُ۔مگر اسے جب آگ میں پکایاجائے تواسے فخّار کہتے ہیں۔وَقَالَ مُجَاھِدٌالصَّلْصَالُ حَمَأٌ مَسْنُوْنٌ۔اورمجاہد نے کہا ہے کہ صلصال کے معنے سڑی ہوئی مٹی کے ہیں۔وَصَلْصَلَ الرَّجُلُ۔اَوْعَدَ وَتَھَدَّدَ اورصلصل کافعل جب کسی انسان کی طرف منسوب کریں تو معنے یہ ہوں گے کہ اس نے دھمکی دی۔اورڈرایا۔وَاَیْضًا اِذَاقَتَلَ سَیِّدَ الْعَسْکَرِ۔یایہ کہ اس نے سردار لشکر کو قتل کردیا۔وَتَصَلْصَلَ الْغَدِیْرُ اِذَاجَفَّتْ حَمْأَتُہُ۔تَصَلْصَلَ الْغَدِیْرُ اس وقت کہتے ہیں کہ جب جوہڑ کا گاراخشک ہوجائے۔وفرس صَلْصَالٌ۔حَادُّالصَّوتِ دَقِیْقُہُ اورگھوڑے کو صلصال کہتے ہیں جب اس کی آواز تیز اورباریک ہو۔وَقَالَ اَبُوْ اَحْمَدَ الْعَسْکَرِیُّ یُقَالُ لِلْحِمَارِالوَحْشِیِّ الْـحَادِّ الصَّوْتِ صَالٌّ وَصَلْصَالٌ۔اورابواحمد عسکری نے کہا ہے کہ وہ گورخر جس کی آواز تیز ہواسے بھی صَالٌّ اور صَلْصَال کہتے ہیں۔وَبِہِ فُسِّرَ الْحَدِیْثُ اَتُحِبُّوْنَ اَنْ تَکُوْنُوْ ا مِثْلَ الْحَمِیْرِ الصَّالَۃِ کَاَنّہُ یُرِیْدُ الصَّحِیْحَۃَ الْاَجْسَادِ الشَّدِیْدَ ۃَ الْاَصْوَاتِ لِقُوِّتِہَا وَنَشَاتِھَا اورانہی معنوں کی روسے اس حدیث کی تفسیر کی جاتی ہے۔جس میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیاتم چاہتے ہوکہ صالّہ گورخروں کی طرح ہو جائویعنی وہ جو اپنی مضبوطی اورقوت کی وجہ سے صحیح جسموں والے تیزآواز والے ہوتے ہیں ویسے تم بھی ہو جائو (تاج العروس)۔یہ روایت مجمع البحار میںبھی آئی ہے اورمجمع البحار میں یہ بھی لکھاہے کہ عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ الصَّلْصَالُ ھُوَالْمَاءُ یَقَعُ عَلَی الْاَرْضِ فَتَنْشَقُّ فَیَجِفُّ وَیَصِیْرُلَہُ صَوْتٌ یعنی