تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 265

جن کو تم رزق نہیں دے سکتے۔انسان دوسرے حیوانوں پر برتری کا دعویدار ہے۔لیکن رزق جمع کرنے میں کس قدر تکلیف اٹھاتاہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہزاروں ہزارکیڑوں مکوڑوں کارزق کس طرح مہیاکررکھا ہے۔انسان تو ان کو رزق نہیں دیتا۔مگر پھر بھی سب کو رزق مل رہاہے۔یہ ایک بالا ہستی کاثبوت ہے جس کی نظر سے اس کی کوئی مخلوق پوشیدہ نہیں۔اوپر کی آیات سے ا س آیت کا یہ بھی تعلق ہے کہ روحانی غذائوں کا بھی انسان ہرزمانہ میں محتاج ہوتا ہے۔ایک زمانہ کے لوگ دوسرے زمانہ کے لوگوں کے لئے صحیح روحانی غذامہیا نہیں کرسکتے۔اس لئے انسانی علوم بدلتے رہتے ہیں۔اس لئے فرمایا کہ ایسے وسیع مطالب والے الہامی کلام کی جو آسمان سے نازل ہو اوراسے محفوظ رکھا جائے ایک یہ بھی ضرورت ہے کہ اگر انسانوں پر معاملہ چھوڑ دیاجائے۔توآئندہ نسلوں کاوہ کبھی خیال نہ رکھیں۔اپنے زمانہ کے حالات اورعلوم کے مطابق کلام الٰہی کو ڈھا ل لیں اور اگلے لوگ حیران و پریشان رہ جائیں۔گذشتہ علوم ان کی تسلی کاموجب نہ ہو ں۔اورنئی ضرورتوں کو کلام الٰہی پورانہ کرتا ہو۔پھر وہ کیا کریں؟ا س لئے فرمایا۔کہ جس طرح ان جانداروں کا رزق ہم نے مہیا کیا ہے۔جن کو تم رزق نہیں دے سکتے یا نہیںدیتے۔اسی طرح ان انسانوں کے لئے ہم نے اس کلام میں ذخیرہ جمع کررکھا ہے۔جو بعد میں آنے والے ہیں۔اورپہلے زمانہ کے لو گ ان کی روحانی غذاکا انتظام نہیں کرسکتے۔جب وہ وقت آئے گااللہ تعالیٰ ان خزانوں کو ان کے لئے کھول دے گا۔اور وہ روحانی غذا حاصل کرلیں گے۔اللہ تعالیٰ کا کیسا احسان ہے۔اگر قرآن کریم کے علوم گذشتہ زمانہ تک محدود ہوتے۔توآج روحانی غذاکے طالبوں کے لئے سخت مشکلات ہوتیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ویسا ہی وسیع بنایا ہے جیسے مادی دنیا کو مگر اللہ تعالیٰ نے اس کلام کو ویسا ہی وسیع بنایا ہے۔جیسا کہ مادی دنیا کو بلکہ اس سے زیادہ اورہر زمانہ کے مطابق اس میں سےعلوم نکلتے رہتے ہیں۔وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىِٕنُهٗ١ٞ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا اورکوئی چیز ایسی نہیںجس کے (غیر محدود)خزانے ہمارے پاس نہ ہو ں او ر اسے ہم ایک معیّن اندازے سے بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ۰۰۲۲ ہی اُتارتے ہیں۔حلّ لُغَات۔نُنَزِّل۔نُنَزِّلُ نَزَّلَ سے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اور نَزَّ لَہُ کے معنے ہیں۔صیَّرَہُ