تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 262
ان کے خیالات کاقلع قمع بھی کرتا رہتا ہے پس ضمنی طور پر ان کے متعلق بھی یہ آیت چسپاں ہوسکتی ہے مگر خود علم نجوم یا تاثیرات نجوم کاتعلق جہاں تک حقائق سے ہے۔یہ ہر گز اسلام کے خلاف نہیں۔قرآن کریم ہمیں قوانین نیچر کے سیکھنے کاخود حکم دیتا ہے۔پس یہ ناممکن ہے کہ ایک طرف تو وہ علم ہیئت میں حکمتیں رکھے۔ان کے سیکھنے کاحکم دے اورپھر جو ان حکمتوں کو سیکھنا چاہے۔اس پر شہب مارے جائیں۔اسلام وہم او رشرک سے روکتا ہے۔پس جہاں تک ان علوم کا تعلق تخمین اوروہم سے ہے وہ ناجائزہیں اورجب ان کو مذہب کی طرح سمجھاجاتا ہے۔وہ شرک بن جاتے ہیں ستاروں کی حرکات میں تاثیرات یقیناً ہیں لیکن وہ قانون قدرت کا ایک جز و ہیں۔ہزاروں امور ایک وقت میں تاثیر ڈال رہے ہوتے ہیں۔اپنی ذات میں کامل تاثیر جو دوسرے کی محتاج نہیں صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ستاروں کی قطعی تاثیر کا خیال رکھنے والا مشرک ہے پس ستارے کیا کسی اور مادی سبب کے متعلق بھی اگر کوئی شخص خیال کرے کہ وہ قطعی اوریقینی تاثیر رکھتا ہے توو ہ مشرک ہے۔اسی وجہ سےرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَنْ قاَلَ مُطِرْنَا بِنَوءِ کَذَاوَکَذَافَھُوَ کافرٌ بی وَمومنٌ بالکوکبِ جو کہے فلاں فلاں ستار ہ کی تاثیر کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی وہ کافر ہے (بخار ی کتاب الاذان باب یستـقبل الامام الناس اذا سلم )ستارو ں کی تاثیرات میں اول تو سینکڑوں وہمی باتیں شامل کردی گئی ہیں لیکن جو علمی طورپر ثابت ہیں و ہ بھی ہزاروں اسبا ب میں سے ایک سبب ہے مسبب الاسباب خداان کانگران اور موکل ہے پس اسی پر توکل چاہیے۔نجومیوں کے لحاظ سے رجم شیاطین کے معنے نجومیوں وغیرہ کے لحاظ سے اس رجم شیاطین کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جس زمانہ میں نبی نہیں ہوتے۔یہ لوگ خوب دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔لیکن جب نبی ظاہرہوتے ہیں تو ان کو خوب مار پڑتی ہے یعنی فریب کھل جاتاہے۔اورلوگ مصّفیٰ علم غیب اور تُک بندی میں فرق معلوم کرلیتے ہیں۔وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا اور(ضرور) ہم نے زمین کو پھیلایاہے او راس میں ہم نے محکم پہاڑ قائم کئے ہیں اور(نیز)ہم نے اس میں ہرقسم کی مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ۰۰۲۰ موزون(ومناسب) چیزوںکو (پیدا کیااور)بڑھایاہے۔حل لغا ت۔وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا زمین میں ہم نے کھاد ڈالی ہے۔یاہم نے