تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 22

وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اور جن لوگوں نے انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں (کہ) اس( شخص) پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍؒ۰۰۸ اتارا گیا(حالانکہ) تو صرف آگاہ اور( ہشیار) کرنے والا ہے اور ہر ایک قوم کے لئے (خدا تعالیٰ کی طرف سے ) ایک راہنما (مقرر) ہے۔تفسیر۔کفار کے نزدیک نشان سے مراد عذاب ہوتا ہے باوجود بار بار نشانات ظاہر ہونے کے اور آئندہ کے لئے نشانات کی خبر دینے کے کفار کہتے کہ نشان تو کوئی دکھاتے نہیں ہم مانیں کیونکر؟ اور اس نشان سے ان کی مراد عذاب الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے نزدیک نشان یہی تھا کہ وہ تباہ ہو جائیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار جب بھی آیت کا مطالبہ کریں جب تک کوئی دوسرا قرینہ اور معنوں پر دلالت نہ کرے ہمیشہ اس کے معنے عذاب کے ہوتے ہیں۔اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ۔فرمایا۔یہ نادان سوچتے نہیں کہ تیرا تو ایک نام منذر ہے۔بلکہ نہ ماننے والوں کے لئے تیرا یہی نام ہے۔پس جو بات تیرے نام ہی سے بتا دی گئی ہے اب یہ اس کی اور وضاحت کیا چاہتے ہیں؟ مگر ساتھ ہی ان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ۔ہر قوم کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ مامور بھیجتا ہے۔اگر ہدایت سے پہلے عذاب آجائے تو ھاد کی صفت باطل جائے۔پس صبر کریں۔پہلے یہ ہادی بن جائے۔اس کے بعد جو رہ جائیں گے ان کے لئے منذر بن جائے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا ہی ہوتا رہا۔کچھ عرصہ تک آپؐ کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پاتے پھر اس طبقہ کے بچے کھچے لوگ عذاب سے تباہ ہو جاتے۔پھر ایک اور طائفہ ہدایت پاتا پھر ان کے سرکردہ عذاب میں مبتلا ہوتے۔اسی طرح آخر تک ہوتا چلا گیا۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے آخری فیصلہ نے تمام غلبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کو بخش دیا۔اور آپؐ کے دشمن بالکل تباہ ہو گئے۔