تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 250

کہ آج آپ کی طبیعت کچھ پریشان معلوم ہوتی ہے۔ابن ناطورکہتاہے کہ یہ ہرقل علم ہیئت کاماہرتھا اور رصدگاہوں میں بیٹھ کر ستاروں کو دیکھاکرتاتھا۔اس نے اس سوال کایہ جواب دیاکہ جب آج رات میں ستاروں کامعائنہ کررہاتھا۔میں نے وہ علامات دیکھیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ عربوں کابادشاہ (یعنی نبی ؐ آخر الزمان) ظاہر ہوگیاہے ا س لئے پریشانی ہے۔اوپر کے حوالوں سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں شہب غیر معمولی طور پر زیاد ہ گرے تھے اوراسی طرح بعض دوسری علامات آسمان میں ظاہر ہوئی تھیں۔جوآپ کی آمد کا نشان تھیں اورجیساکہ بعض اور احادیث سے ثابت ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی شہب کثرت سے گرے تھے۔(مجمع البحار) مسیح کی آمد ثانی کے وقت شہب گرنے کی پیشگوئی انجیل میں بھی مسیح کی دوبارہ آمدکے متعلق لکھا ہے ’’سورج اور چاند اورستاروں میں نشان ظاہر ہوں گے‘‘(لوقاباب۲۱۔آیت ۲۵)پس یہ امر واقعات اوراحادیث سے ثابت ہے کہ نبی کے ظہو ر کی علامت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے شہب کاگرنا سنت کے طور پر مقرر کررکھاہے اس کی ظاہری وجہ توجیساکہ میں اوپر بتاچکاہوں یہ ہے کہ تااس آسمانی نشان کو دیکھ کرلوگ اس وسوسہ سے نجات پائیں کہ شاید اس کے معجزات کسی انسانی تدبیر کانتیجہ ہو تے ہوں۔مگرکوئی تعجب نہیں کہ اس کے علاو ہ بھی کوئی مخفی وجہ نبی کے زمانہ میں شہب کے گرنے کی ہو۔اوراس میں کوئی روحانی تاثیرات بھی ہوں۔جو گوانسانی نگاہ سے مخفی ہوں۔لیکن ان شیطانی تدابیر کاازالہ کرنے میںممد ہوتی ہوں۔جوانبیاء کے دشمن کرتے رہتے ہیں۔قرآن مجید میں مختلف مواقع پر آسمانوں کی حفاظت اور شہب گرنے کا ذکر ا س کے بعد میں ان مختلف آیات اوران کی تفاسیر کو لیتاہوں جو مفسرین نے کی ہیں۔شہب گرنے کا ذکر سورۃ صافات ،جن اور حم سجدۃ میں قرآن کریم میں آسمان سے شہب یاپتھر پڑنے کا ذکر یاآسمانوں کی حفاظت کا ذکر مندرجہ ذیل سورتوں میں ہے (۱)سورئہ حجر زیر تفسیرآیت (۲)سورئہ مُلک (ع۱) اس میں آتاہے وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّيٰطِيْنِ (الملک:۶) ہم نے سماء دنیا کو ستاروں سے مزیّن کیاہے اورانہیں شیطانوں کو ماربھگانے کاذریعہ بنایا ہے (۳)سورئہ صٰفّٰت (ع۱)اس میں ہے اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِ۔وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ۔لَا يَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ يُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ۔دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ(۷ تا ۱۱)۔ہم نے ورلے آسمان کوستاروں سے مزیّن کیاہے اورہرباغی شیطان سے اسے محفوظ بنایاہے وہ ملاء اعلیٰ کی بات نہیں سن سکتے اورہر طرف