تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 249

ہلاک ہو گئے ہیں۔چنانچہ ابن کثیر نے بہ حوالہ لکھا ہے۔کہ فَلَمَّابَعَثَ اللہُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نَبِیًّا رَسُوْلًا رُجِـمُوْالَیْلَۃً مِنَ اللَّیَالِیْ فَفَزِعَ لِذٰلِکَ اَھْلُ الطَّائفِ فَقَالُوْا ھَلَکَ اَھْلُ السَّمَاءِ لَمَّا رَأوْ مِنْ شِدَّۃِ النَّارِ فِی السَّمَاءِ وَاخْتَلَافِ الشُّھُبِ فَـجَعَلُوْا یُعْتِقُوْنَ اَرِقَّاءُ ھُمْ وَیُسَیِّبُوْنَ مَواشِیَھُمْ فَقَالَ لَہُمْ عَبْدُ یَالِیْل بْنُ عَمْرِوبْنِ عُمَیْرٍ وَیْحَکُمْ یَامَعْشَرَاَھْلِ الطَّائِفِ اَمْسِکُوْاعَنْ اَمْوَالِکُمْ وَانْظُرُوْااِلٰی مَعَالِمِ النُّجُوْمِ فَاِنْ رَأیْتُمُوْ ھَا مُسْتَقِرَّۃً فِی اَمْکِنَتِہَا فَلَمْ یَھلِکْ اَھْلُ السَّمَاءِ اِنَّمَا ھٰذَا مِنْ اَجْلِ ابْن اَبِیْ کَبْشَۃَ یَعنِیْ مُحَمَّدًا صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اِنْ نَظَرْتُمْ فَلَمْ تَرَوْھَا فَقَدْ ھَلَکَ اَھْلُ السَّمَاءِ فَنَظَرُوْا فَرَأَوْھَافکفُّواعَنْ اَمْوَالِھِمْ(ابن کثیر تفسیر سورئہ الجن زیر آیت انا لمسنا السماء) یعنے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بناکر مبعوث فرمایا۔تو ایک رات شیطانوں پر سخت سنگ باری ہوئی (یعنےشہب گرے)تواسے دیکھ کر طائف کے لوگ سخت گھبراگئے اورآسمان پر بار بار اورکثر ت سے شہب کے ٹوٹنے کا نظارہ دیکھ کر کہنے لگے کہ معلوم ہوتاہے آسمان کے باشندے ہلاک ہوگئے ہیں۔اس گھبراہٹ میں انہوں نے اپنے غلام آزادکرنے شروع کردیئے اورجانوروں کی رسیاںکھول کر انہیں کھلا چھوڑدیا۔اس پر ان کے سردار عبدیالیل نے کہا کہ اے طائف کے لوگو!تمہارابراحال ہو اپنے مالوںکو سنبھال کر رکھواورآنکھیں اُٹھا کر ستاروں کودیکھو۔اگر وہ اپنی جگہ پر قائم ہیں تومعلوم ہواستارے نہیں ٹوٹ رہے شہب گررہے ہیں اورآسمان کے ساکن ہلاک نہیں ہوئے۔بلکہ یہ نشان ابن ابی کبشہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کے لئے دکھایاگیاہے۔اوراگر تم دیکھو کہ ستارے آسمان پر اپنی جگہوں پر نہیں ہیں توسمجھو کہ آسمان کے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں (اورقیامت آگئی ہے )اس پر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔توستاروں کو اپنی جگہ پر پایا اوراپنے اموال لٹانے بند کردیئے۔آنحضرت ؐ کے وقت بعض آسمانی تغیرات کی انبیاء بنی اسرائیل سے خبر یہ نشان سابق پیشگوئیوں کے مطابق ظاہرہواتھا۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ بعض آسمانی تغیرات کی انبیاء بنی اسرائیل نے زمانہ نبویؐ کے وقت کے متعلق خبر دی تھی۔بخاری میں ہے۔اِنَّ ھِرَقْلَ حِیْنَ قَدِمَ اِیْلِیَاءَ اَصْبَحَ یوْمًاخَبِیْثَ النَّفْسِ فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِہِ قَدْ اَنْکَرْنَا ھَیْئَتَکَ۔قَالَ ابْنُ النَّاطُوْرِوَکَانَ ھِرَقْلُ حَزَّاءً یَنْظُرُ فِی النُّجُوْمِ فَقَالَ لَہُمْ حِیْنَ سَأَلُوْہُ اِنّی نَظَرْتُ اللَّیْلَۃَ حِیْن نَظَرْتُ فِی النُّجُوْمِ اَنَّ مَلِکِ الخِتَانِ قَدْ ظَھَرَ۔( بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ۔۔) یعنی ہرقل زمانہ نبوی ؐ میں دورہ کرتے ہو ئے ایلیاکے مقام پر آیا۔تو ایک دن صبح کے وقت اس کی طبیعت پریشان تھی۔اس پر کلیسیائی جرنیلو ںمیں سے ایک نے پوچھا