تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 236
شِھَابٌ۔شُعْلَۃٌ مِنْ نَارٍ سَاطِعَۃٍ۔بھڑکتی ہوئی آگ کا شعلہ۔اَوْکُلُّ مَضِیْئٍ مُتَوَلَّدٌ مِنَ النَّارِ یاہرچمکتی ہوئی چیز جو آگ سے پیداہو۔وَمَا یُرٰی کَاَنَّہُ کَوْکَبٌ اِنْقَضَّ۔ٹوٹتاہواستارہ۔وَقَدْ یُطْلَقُ عَلَی الْکَوْکَبِ اَوِ الدَّرَارِیْ مِنَ الْکَوَاکِبِ لِشِدَّۃِ لَمَعَانِہاَ۔اور کبھی شھاب کالفظ ستارے پر یاچمکتے ہوئے ستاروں پر ان کی شدت چمک کے باعث بولاجاتاہے۔یُقَالُ اِنَّ فُلَانًا شِہَابُ حَرْبٍ اِذَاکَانَ مَاضِیًا فِیْہَا اوراس شخص کو جولڑائی میں تیز ہو۔اورجہاں جائے مارتاچلاجائے شِہَابُ حَرْبٍ کہتے ہیں۔تُطْلَقُ الشُّھُبُ عَلیٰ ثَلَاثِ لَیَالٍ وَھِیَ اللَّیَالِیْ البِیْضِ۔اورشہب کالفظ تین پوری چاندنی راتوں (۱۳۔۱۴۔۱۵)پر بھی بولتے ہیں۔پس شہاب مجازاً ان چیزوں کے لئے استعمال ہوتاہے جو روشن ہوں اوراسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی جو چست ہوں اورکام میں خوب ہوشیار ہوں۔(اقرب) الشَّہابُ۔الشُّعْلَۃُ السَّاطِعَۃُ مِنَ النَّارِ الْمُوْقَدَۃِ جلتی ہوئی آگ کاروشن شعلہ۔وَالشُّعْلَۃُ السَّاطِعَۃُ مِنَ الْعَارِضِ فِی الْجَوِّ۔فضا میں کسی چیز کے گزرنے کے باعث کسی روشنی اورشعلے کے پیدا ہونے کو بھی شہاب کہتے ہیں۔(مفردات) مبین۔واضح کرنے والا اورواضح اور ظاہر۔مزید تشریح کے لئے دیکھیں سورۃ حجر آیت نمبر۲۔تفسیر۔بروج کے مختلف معانی۔بعض نے بروج کے معنے ستاروں کے کئے ہیں۔جیسے قتادہ نے (بحر محیط۔درمنثور۔ابن کثیرزیر آیت وَلَقَدْجَعَلْنَا فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًا)لیکن لغت میں بروج جس کامفرد بُرج ہے اس کے معنے ستاروں کی منزل کے ہیں یعنی جن دائروں میں ستارے چکر لگاتے ہیں۔اس کے علاوہ بُرج کے معنے جیساکہ اوپر بتایاگیاہے۔محل اورقلعہ کے بھی ہیں۔علماء اد ب میں سے بھی زجاج نے بُرج کے معنے کوکب یعنی ستارہ کے کئے ہیں۔(تاج العروس ) بعض مفسرین نے بروج کے معنے ستاروں کے کئے ہیں جن مفسرین نے بُرج کے معنے ستاروں کے کئے ہیں۔وہ اس سے دلیل پکڑتے ہیں۔کہ چونکہ دوسری جگہ قرآن کریم میں آتاہے۔اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِ ( الصّافات:۷)ہم نے ورلے آسمان کو ستاروں کی زینت کے ساتھ مزین کیاہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں بُروج سے مراد ستارے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ائمہ نے بروج کے معنے کواکب یعنے ستاروں کے کئے ہیں۔لیکن مذکورہ بالاآیت سے جو استدلال کیاگیاہے۔وہ یقینی نہیں۔کیونکہ ممکن ہے کہ وَ زَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ میں دوسرامضمون ہو اورآیت کامفہوم یہ ہو کہ ہم نے آسمان میں ستاروں کی منازل بنائیں۔اوران میں چلنے کے لئے