تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 237
ستارے بنائے جن کی وجہ سے آسمان خوبصورت نظرآتاہے۔بروج کے معنی ستاروں کے کرنا ضروری نہیں پس جبکہ ضروری نہیں۔کہ اس آیت کے یہی معنی ہوں۔کہ بروج ہی سے زینت کااظہار کیاگیاہے۔بروج کے معنی ستارے کرنے کی کوئی خاص مجبوری نہیں ہے۔کلام الٰہی کی حفاظت اور آسمانوں کی حفاظت کا جوڑ بہرحال بروج سے مراد خواہ متداول معنی یعنے ستاروں کی منازل کے کئے جائیں یاستاروں کے معنے لئے جائیں۔اصل سوال یہ ہے کہ قرآن کریم یا اس سے پہلے کی کتب سماوی کی حفاظت اورآسمانوں کی حفاظت کا آپس میں جوڑ کیاہے۔اورکیوں کلام الٰہی کی حفاظت کے ذکر کے بعد آسمانوںکی حفاظت کا ذکر کیاگیاہے۔مفسرین نے اس بارہ میں مختلف خیالات کااظہار کیاہے۔جن میں سے بعض محض قصوں کی حیثیت رکھتے ہیں اورنہ ان کاکوئی ثبوت ہے اورنہ خدائی کلام سے وہ کوئی دور کی بھی مناسبت رکھتے ہیں۔مگربہرحال ان قصوں اورحدیثوں اورتفسیروںکے متعلق میں اصل مضمون بیان کرنے کے بعد اپنی تحقیق بیان کروں گاپہلے میں وہ معنے بیان کردیتاہوںجومیرے نزدیک قرآن کریم کے سیاق و سباق کو دیکھ کر ان آیات سے نکلتے ہیں۔ظاہری نظام اور روحانی نظام میں مماثلت قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ظاہری نظام اور روحانی نظام میں ایک شدید مماثلت اورمشابہت کادعویٰ کرتاہے اوربار بار روحانی عالم کے سمجھانے کے لئے جسمانی عالم کی مثالیں دیتاہے۔کبھی الہام کو پانی کے مشابہ قرار دے کر اس کے اثرات اورکلام الٰہی کے اثرات کی مشابہت کو پیش کرتاہے۔کبھی زمین و آسمان کے تعلقات سے روح اور جسم کے تعلقات پر روشنی ڈالتاہے۔کبھی روشنی اور آنکھ کے تعلقات سے یہ نتیجہ نکالتاہے کہ ا ندرونی قابلیتوں کے بغیر صداقت نفع نہیں دیتی۔غرض بیسیوں بلکہ سینکڑوں سبق جسمانی نظام سے حاصل کرنے کے لئے وہ ہمیںتوجہ دلاتاہے اس آیت میں بھی ایسی ہی مشابہت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔زمین کے رہنے والوں کوایک آسمان اپنے سروں پر نظر آتاہے۔اس میں ستاروں کاایک نظام ہے جو اپنے اپنے وقت پر اوراپنے اپنے دائرہ میں کام کررہے ہیں۔اس نظام کو بدلنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی حفاظت کے سامان موجود ہیں۔ظاہری نظام کی مثال سے روحانی نظام کو پیش کیا گیا ہے اسی مثال کو لے کر قرآن کریم میں متعدد بار روحانی آسمان کے نظام کو پیش کیا گیاہے چنانچہ اس جگہ بھی میرے نزدیک اسی نظام کی طرف اشارہ ہے۔فرماتا ہے