تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 232

کوئی نشان نظر آجائے توپھر مانیں گے لیکن جب نشان نظرآجائے توپھر کبھی توکوئی بہانہ بنالیتے ہیں۔کبھی تعبیر غلط کرلیتے ہیں کبھی کہہ دیتے ہیں کہ خواب الہام کیا شے ہے یونہی وہم ہے۔غرض نشان دیکھ کر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے اوراس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ دل میں خشیت اللہ نہیں ہوتی ا س لئے نشان سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔اسی حالت کی طرف اس آیت میںا شارہ کیاگیاہے کہ ماننے کے لئے پہلے دل کی حالت کی درستی ضروری ہے۔خشیت اللہ ہوتو پھر ایمان نصیب ہوتاہے ورنہ ایک چھوڑ سو فرشتے نظرآئیں انسان اپنے دل کی تسلی کے لئے کئی بہانے بنالیتا ہے اورایمان لانے سے انکار کردیتاہے۔اس آیت کے یہ بھی معنے ہوسکتے ہیں کہ ان پر عذاب آتے ہیں۔عذاب کو دیکھ کر ان میں خشیت پیداہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ عذاب ٹل جائے تو ہم مان لیں گے جیساکہ فرعون کے ذکر میں قرآن کریم میں آتاہے۔ان معنوں کی روسے فَتَحنَا باباً من السماء کے معنے رحمت کے دروازے کاکھولنا اورعذاب کا ٹلادینا ہوگا۔اور ظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَسے مراد آرام کی ساعتوں میں دنیوی ترقیات کے حاصل کرنے میں مشغول ہوجاناہوگا۔عذاب کا ذکر پہلےمَا كَانُوْۤااِذًا مُّنْظَرِيْنَ میں آچکا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تم لوگ توایسے سنگدل ہوکہ عذاب آنے پر ندامت کااظہار کروگے اورپھرمنکرہو جایاکروگے۔وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَۙ۰۰۱۷ اوریقیناً ہم نے آسمان میں (ستاروں کی ) کئی منزلیں بنائی ہیں اورہم نے اسے دیکھنے والوں کیلئے (ستاروں کے وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍۙ۰۰۱۸ ذریعہ سے)خوبصورت بنایاہے۔اور(نیز) ہم نے اسے ہرایک سرکش (اور)دھتکارے ہوئے (کی رسائی) سے محفوظ کردیاہے۔حلّ لُغَات۔السَّمَآءُ کے معنے ہیں آسمان مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۴۔السَّمٰوٰت۔سَمَاءٌ کی جمع ہے۔السَّمَاءُ۔آسمان۔کُلُّ مَاعَلَاکَ فَاظَلَّکَ۔ہر اوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز۔سَقْفُ کُلِّ شَیْءٍ وَبَیْتٍ چھت رُوَاقُ الْبَیْتِ برآمدہ۔ظَھْرُالْفَرَسِ گھوڑے کی پیٹھ۔اَلسَّحَابُ۔بادل۔اَلْمَطَرُ بارش۔اَلْمَطَرَۃُ الْجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمدہ بارش۔اَلْعُشْبُ سبزہ و گیاہ۔(اقرب)