تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 231

پہلا جواب اس کا جواب ایک تویہ دیاتھاکہ فرشتے ہرایک کے مناسب حال نازل ہوتے ہیں۔یہ توعذاب کے مستحق ہیں۔عذاب ہی کے فرشتے ان پر نازل ہوں گےمگر ان کے نزول سے یہ ہلاک ہونے کے بعد کیافائدہ اُٹھائیں گے۔دوسرا جواب دوسراجواب یہ دیاکہ تم فرشتوں کاکہتے ہواوران کے نزول پرتعجب کرتے ہو۔ہم تواس پر نازل ہونے والے کلام کی خود حفاظت کریں گے کیونکہ وہ ہماراکلام ہے اوراس کی حفاظت کی ذمہ واری سب سے زیادہ ہم پر پڑتی ہے۔آخر ہم پہلے نبیوں کے زمانہ میں بھی یہ کام کرتے آئے ہیں۔اب کیوں نہ کریں گے پھر فرمایاتھاکہ یہ استہزاء ان کا تعجب انگیز نہیں کہ سب نبیوں کے دشمنوں نے ان سے استہزاء کیا اوراس قد ر استہزاء کیاکہ آخر گناہ ان کی غذاہوگیااوراس میں ان کو لذت آنے لگی اوروہ ایمان سے محروم ہوگئے یہی ان کا حال ہے۔کفار کے مطالبہ کا ایک اور طریق پر جواب اب ایک او رطریق پر انہیں جواب دیتاہے۔فرماتا ہے کہ تم جو کہتے ہوکہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھاتاآپ ہی گھر میں بیٹھا دیکھ لیتا ہے۔تم یہ بتائوکہ کیا ہربات کو ہرشخص سمجھنے کی قابلیت رکھتاہے۔جب تک دل میں اس سے مناسبت نہ ہو بات سمجھ میں نہیں آسکتی۔تم کو توالٰہی علوم سے اس قدر بُعد ہے کہ اگراسی قسم کے نظارے تم کو نظر آنے لگیںجومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آتے ہیں اور تم کو روحانی مدارج کی سیر بھی کرائی جائے توتم کبھی نہ مانوگے بلکہ یہی کہو گے کہ ہماری آنکھوں پر جادوکردیاگیاہے ہمیں عجیب عجیب قسم کے نظارے نظر آتے ہیں کیونکہ تمہارے قلوب میں روحانی علوم سے کوئی لگائو نہیں۔آسمانی دروازہ کھلنے اور اوپر چڑھنے سے مراد گویاآسمانی دروازہ کے کھلنے سے مراد اس جگہ آسمانی انکشاف ہے اوراوپر چڑھنے سے مراد بعض روحانی مدارج کاکھلنا ہے۔بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ سے ایک اور نمونہ دکھائے جانے کی طرف اشارہ ہے اگرکہا جائے کہ جس پرآسمانی دروازہ کھولاگیا وہ ایمان سے کس طرح محروم رہ سکتاہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ کہاگیاہے یعنے کوئی دروازہ جس سے اس طرف اشارہ کیاگیاہے کہ وہ کلی طور پر آسمانی علوم سے آشنا نہ کیاجائے اورہرقسم کی معرفت کی راہیں اس کے لئے نہ کھولی جائیں بلکہ بوجہ اس کے انکار کے اسے ایک نمونہ دکھایاجائے اوریہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب تک دل میں مناسبت پیدانہ ہوجائے انسان محض نمونہ دیکھ کر فائدہ نہیں اٹھاتا اور وہ نظارہ صرف حجت پوری کرنے کے کام آتاہے۔ایمان کاموجب نہیں بنتا۔کفار کی عادت یہ ایک تجربہ شدہ امر ہے کہ کئی لوگ مامورین کاانکارکرتے ہیں اوریہ مطالبہ کرتے ہیںکہ اگر