تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 224
جس میں تمہارے شرف دینی اوردنیوی عزت کے سامان موجود ہیں پھر تم کیوں مخالفت سے باز نہیں آتے ؟ لفظ ذکر میں مسلمانوں کی ترقی کی پیشگوئی اسی صفت کے کمال کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم کانام بعض دفعہ اَلذِّکْر آتا ہے اورآیت زیرتفسیر میں بھی اسی کی طرف اشارہ کیاہے کہ اے کفار !تم طنز سے کہتے ہو کہ اے وہ شخص! جس پر وہ کلام نازل ہواہے جس میں ماننے والوں کے لئے بڑی عزت اورتقویٰ کادعویٰ کیاگیاہے توپاگل ہے۔مگرمَیں تم کو بتاتاہوں کہ یہ کلام میراہی نازل کیاہواہے اور میں اس شرف کے وعدہ کو ضرورپوراکرکے رہوں گا کیونکہ یہ شرعی کلام ہےاوربغیر اس کے کہ ابتدائی زمانہ میں اس کے ماننے والوں کو حکومت ملے اوردینی رتبہ کے ساتھ دنیوی رتبہ بھی حاصل ہو۔یہ کلام عملی جامہ نہیں پہن سکتااورغیرمحفوظ ہو جاتاہے پس ضرور ہے کہ میں موجود ہ نظام کو توڑ کر وہ نظام قائم کروں جس میں مسلمانوں کو قرآنی تعلیم کو عملی جامہ پہنانے کاموقعہ ملے اوران کو ایسے شرف اور تقویٰ کے اظہار کاموقعہ ملے جس کاوعدہ قرآن میں کیاگیاہے۔یہ مضمون اس آیت کو وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ (الحجر :۵)والی آیت کے ساتھ ملاکر دیکھنے سے اوربھی واضح ہو جاتا ہے۔ہر نبی کے کلام کی حفاظت کئے جانے کے متعلق ایک سوال کا حل ایک سوال کاحل اس موقعہ پر ضروری ہے میں نے ا س نوٹ کے سلسلہ میں بیان کیاہے کہ ہرنبی کے کلام کی حفاظت کی جاتی ہے۔اگلی آیات اس مضمون کی تصدیق کرتی ہیںاوریہ قانون ہرنبی کے متعلق ہے اب سوال یہ ہے کہ اگریہ درست ہے توکیا (۱)پہلے انبیاء کی وحی اب تک بعینہٖ محفوظ ہے ؟ (۲)اگرنہیں توپھر یہ کیونکر تسلیم کیاجائے کہ قرآن کریم ہمیشہ محفوظ رہے گا۔کیوں نہ تسلیم کیاجائے کہ یہ بھی پہلے انبیاء کی وحیوں کی طرح کسی وقت بگڑ جائے گا۔اس سوال کا جواب خود آیت زیر تفسیر کے الفاظ ہی دے رہے ہیں قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ ہم قرآن کی حفاظت کریں گے یاکتاب کی حفاظت کریں گے بلکہ الذکر کی حفاظت کاوعدہ کیاہے۔جب تک کوئی کلام الذِّكْرُ رہے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اس لفظ کو استعمال کرکے حفاظت کے دائرہ کو محدود کردیاگیاہےجب تک کو ئی کلام الذکر رہے یعنے (۱) ایک طرف تو بندہ اورخدا تعالیٰ کے تعلق کو قائم کرتارہے (ذکر کے معنے یاد کرنے کے ہیں )اوربندہ کوایسے قیام پر کھڑارکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں سرشار رہے اور(۲)دوسری طرف اسے ایسامقام عطاکرے کہ اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتارہے یعنے خدا تعالیٰ کی وحی اورنصرت اورامداد بندہ کو حاصل رہے اس کی حفاظت کااللہ تعالیٰ ذمہ لیتا ہے جو کلام ان خوبیوں کاحامل رہے گا۔خدتعالیٰ اس کی حفاظت کر ےگااورجوکلام ان خوبیوںکاحامل نہ ہوگااللہ تعالیٰ اس کی حفاظت چھوڑ دے گا۔