تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 222

ہیں اگریہ فرض بھی کرلیاجائے کہ وہ لفظاً محفوظ ہیں۔توبھی وہ کتاب کامل ہونے کے لحاظ سے محفوظ نہیں کیونکہ جس زبان میں وہ نازل ہوئے ہیں وہ محفوظ نہیں رہی اس لئے اس کے معانی بالکل مشتبہ ہوگئے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام پاکر کوئی شخص اس کے صحیح معانی نہ بتائے توکون یقین کے ساتھ کہہ سکتاہے کہ وہ اس کاصحیح مطلب بیان کررہاہے یااس کے مطابق عمل کررہاہے۔یہ نقص اسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد ایسے لوگ کھڑے ہوتے رہیں جو کتاب کے صحیح مفہوم کی طرف لوگوں کو لاتے رہیں اوریہ حفاظت دائمی طور پر قرآن کریم ہی کو حاصل ہے۔بے شک دوسر ی کتب سماویہ کو بھی اُس عرصہ میں کہ وہ زندہ کتب تھیں یعنے دنیا کے لئے قابل عمل تھیں یہ حفاظت حاصل تھی مگر اب نہیں۔اب صرف قرآن کریم ہی کو یہ حفاظت حاصل ہے صرف اس کے ماننے والے ہرزمانہ میں خدا تعالیٰ سے براہ راست الہام پانے کے مدعی ہوتے چلے آئے ہیں۔قرآن مجید کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود کی بعثت اوراس زمانہ میں کہ دین سے غفلت انتہاکو پہنچ گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک ایسامامور مبعوث فرمایا ہے جس نے کلی طور پر قرآن کی تفسیروںکو زوائد اورحشو سے پاک کرکے اصلی صورت میں دنیاکے سامنے پیش کیاہے حتیٰ کہ قرآن جو اسی زمانہ کے علوم کے سامنے ایک معذرت خواہ کی صورت میں کھڑاتھا۔اب ایک حملہ آور کی صورت میں کھڑاہےجس کے سامنے سب فلسفے اورمذاہب اس طرح بھاگ رہے ہیں جیسے شیر کے سامنے سے لومڑ۔فَسُبْحَانَ اللہِ الْمَلِکِ الْعَزِیْزِ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرادعویٰ ہے کہ اس مامور کی اتباع کی برکت سے کسی علم کامتبع خواہ قرآن کریم کے کسی مسئلہ پر حملہ کرے۔میں اس کامعقول اورمدلّل جوا ب دے سکتاہوں اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ذی علم کو ساکت کرسکتاہوں خواہ وقتی جوش کے ماتحت وہ علی الاعلان اقرار کرنے کے لئے تیار نہ ہومیں نے اس کاربع صدی سے زیادہ عرصہ میں تجربہ کیاہے۔میں سمجھتاہوں کہ جب سے اس میدان میں داخل ہواہوںاللہ تعالیٰ کے فضل سے ظاہرو باطن میں کبھی مجھے اس بارہ میں شرمندہ ہونے کاموقعہ نہیں ملا۔قرآن مجید کی معنوی حفاظت غرض خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی معنوی حفاظت کامدار صرف عقل پر ہی نہیں رکھا اوراس کی تشریح کاانحصار صرف انسانی دماغ پر ہی نہیں چھوڑابلکہ خوداپنے کلام سے اس کو ظاہرفرمانے کاذمہ لیاہے جس کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب اس طرح سے عملی پھل ظاہرہوتے ہیں توقرآن مجید کے محفوظ ہونے کاایک بیّن ثبوت ملتارہتاہے۔دوائی اگرفائدہ کرتی ہے تو ہم اسے تازہ سمجھتے ہیںورنہ بوسیدہ سمجھتے ہیں۔قرآن مجید کے تازہ پھل بھی ثابت کرتے رہتے ہیں کہ قرآن مجید محفوظ اورزندہ کتاب ہے اوریہ قرآن مجید کی حفاظت کاایسازبردست