تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 219
اس کے جواب میں ایک انڈادے کر کہا کہ تم یہ انڈامیز پر کھڑاکردوسب نے کوشش کی مگروہ کھڑانہ ہوا۔آخر میں کولمبس اُٹھا اور اُس نے ایک سوئی سے اس میں چھید کیا اور اس سے جو لعاب نکلا اس کی مدد سے اسے میز پر کھڑاکردیااس پر لوگوں نے کہا کہ ایساتو ہم بھی کرسکتے تھے کولمبس نے کہا کہ امریکہ کی دریافت کے بارہ میں تو تم نے کہہ دیاکہ ہمیں موقع نہیںملامگر اس بارہ میں تو تم کو موقعہ مل گیاتھا کیوں نہ تم نے اپنی عقل سے کام لیا۔پس ایسا ہی ہم بھی کہتے ہیں کہ وہ ذرائع حفاظت کے جو قرآن کے بارہ میں استعمال کئے گئے آخر کیوں قرآن کریم کے پیش کرنے والے کو ہی سوجھے کیوں دوسری جماعتوں نے اسے استعمال نہ کیا؟ یہ بھی یا د رہے کہ ایسے آدمیوں کامیسر آنا جو اسے حفظ کرتے اورنمازوں میں پڑھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طاقت میں نہ تھا۔ان کامہیا کرنا آپؐ کے اختیار سے باہر تھا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ کہ ایسے لوگ ہم پیداکرتے رہیں گے جو اسے حفظ کریں گے۔آج اس اعلان پر تیرہ سو سال ہوچکے ہیں اورقرآن مجید کے کروڑوں حافظ گذر چکے ہیں بعض یوروپین ناواقفیت کی وجہ سے کہہ دیاکرتے ہیں کہ اتنا بڑاقرآن کس کو یاد رہتاہوگامگر قادیان ہی میں کئی حافظ مل سکتے ہیں جنہیں اچھی طرح سے قرآن یاد ہے چنانچہ میرے بڑے لڑکے ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ نے بھی گیارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیاتھا۔قرآن مجید ایسے الفاظ میں نازل ہوا ہے کہ وہ سہولت سے یاد ہو جاتا ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدکو اپنے خاص تصرف سے ایسے الفاظ اورایسی ترکیب سے نازل فرمایا ہے کہ وہ سہولت سے حفظ ہو جاتا ہے۔قرآن شعر نہیں مگرشعر سے بھی زیادہ جلد یاد ہو جاتا ہے۔اردویاانگریزی کی عبارتوں کی نسبت قرآن شریف کے حفظ کرنے پرنصف وقت بھی صرف نہیں ہوتا۔ایک انگریزمترجم قرآن لکھتاہے کہ قرآن ایسی عبارت میں ہے کہ اس کو بغیر ترتیل کے پڑھنے کے چارہ ہی نہیں۔پس قرآن مجید کی زبان ان اللہ تعالیٰ کے پیداکردہ سامانوں میں سے ہے جن کے ذریعہ سے قرآن مجید کی حفاظت کی جاتی ہے۔قرآن مجیدکی حفاظت کے چار سامان سب سے اول اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمیوں کو پیدا کیا جو اسے شروع سے لے کر آخر تک حفظ کرتے تھے۔دوسرے اس کی زبان ایسی سہل اوردلنشین بنائی کہ سہولت سے یاد ہوجائے۔سوم اس کی تلاوت نمازوںمیں فرض کردی۔چہارم لوگوں کے دلوں میں اس کے پڑھنے کی غیر معمولی محبت پیداکردی۔