تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 213

تم اس بات کے مستحق ہوکہ تمہیں کلام الٰہی سے مشرف کیاجائے یا اس جگہ پر حق کے معنے استحقاق کے ہیں۔یعنے جیسا جیساکسی کاحق ہو اس کے مطابق فرشتے اُترتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے نبیوں اورمومنوں پر ان کے حق کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرجوفرشتے اترتے ہیں وہ تو رحمت کے فرشتے ہیں وہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی نظر آسکتے ہیں۔وہ ان خدا تعالیٰ کاغضب سہیڑنے والوں کو کس طر ح نظر آجائیں ان پرتوجب فرشتے اتریں گے غضب ہی کے اتریں گے اوراس وقت فرشتوں کادیکھنا انہیں نفع نہ دےگا کیونکہ وہ ان کے ہلاک کرنے کے لئے آئیں گےاوران کے آنے کے بعد آئمۃ الکفر کو ڈھیل نہ ملے گی۔چنانچہ بدرکے موقعہ پر یہ سزادینے والے فرشتے آئے اوربعض کفار کو کشفی حالت میں وہ نظر بھی آئے مگروہ وقت ان کی ہلاکت کا تھا ان سے وہ کیافائدہ اٹھاسکتے تھے ؟ (سیرۃ النبویۃ لابن ہشام باب غزوۃ بدرشہو د الملا ئکۃ وقعۃ بدر) ملائکہ کا کلام انسان کے قلب کے مطابق ہوتا ہے اس جگہ ایک بہت بڑانکتہ بیان فرمایاگیاہے وہ یہ کہ ملائکہ کاکلام انسان کے قلب کے مطابق ہوتاہے جیسا انسان ہوگاویسے ہی اس کے الہام ہوںگے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الہام ہوگیاتوہم بڑے آدمی ہوگئے حالانکہ یہ کافی نہیں کیونکہ الہام انسان کی اپنی فطرت کے مطابق ہی ہواکرتاہے۔پہاڑی مزدور کا واقعہ قادیان میں ایک پہاڑی شخص مزدوری وغیرہ کی غرض سے آیا کرتاتھاوہ عموماً ہمارے ہاں ہی مزدوری وغیرہ کرتاتھابعض اوقات کسی کام کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے پاس چلاجاتا توحضرت خلیفۃاوّل ؓ اسے نماز کی تاکید فرمایاکرتے تھے جس پر وہ جواب دیاکرتاکہ ’’نماز سانوں پجدی نیئں ‘‘(یعنی نماز ہمارے مناسب حال نہیں ) اتفاقاً ایک روز آپ نے اسے مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا۔فراغت کے بعد پوچھاکیابات ہے؟تواس نے جواب دیاآج مجھے الہام ہواہے کہ ’’اُٹھ اوئے سورانماز پڑھ ‘‘اَے سوَر اٹھ کرنماز پڑھ۔اس لئے میں نے نماز شروع کردی ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہ الہام شیطان کی طرف سے توہونہیںسکتایہ یقیناً خدائی الہام تھا مگر اس کے درجہ کے مطابق تھا۔پس خالی الہام کونہیں دیکھاجائے گا بلکہ یہ دیکھاجائے گاکہ اس الہام کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیامحبت کابھی اظہارہے یا اس بندے کی شان کے اظہار کی بھی کوئی صورت ہے؟ اس آیت سے ایک عام قانون کاپتہ چلتاہے اوروہ یہ کہ فرشتے بالحق نازل ہواکرتے ہیں۔یہ امر ظاہر ہے کہ مومنوں میں ادنیٰ ،اعلیٰ ،مامور وغیر مامور سب ہی شامل ہیں۔اسی طرح نبیوں میں مرتبہ کاتفاوت پایا جاتا ہے حضرت خاتم النبین علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اسی طرح نبی کہلاتے ہیں جس طرح زکریا،الیاس اوریوسف علیہم السلام۔