تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 212

لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بِالْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۸ اگرتوسچا ہے توکیوں ملائکہ کو ہمارے سامنے نہیں لاتا۔حلّ لُغَات۔لَوْ مَا لَوْمَااور لَوْ لَا اور ھَلَّا ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔یہ نحاس کاقول ہے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کیوں ایسانہیں کرتے۔مطلب یہ کہ ایساکرو۔(تفسیر القرطبی تفسیر سورۃ الحجر زیر آیت ھٰذا) تفسیر۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کادعویٰ گزشتہ سورتوں میں یہ پیش کیاگیاتھااوراس سورۃ کاشروع بھی اسی تسلسل میں تھاکہ اسلام کی فتح اس کلام کے ذریعہ سے ہوگی۔جو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا ہے۔وہ کلام اپنے اندر ایسی خوبیاں رکھتاہے کہ اس کے مقابل پر کفار کازورنہ چل سکے گا۔کفار کا لاجواب ہو کر آنحضرت ﷺ کو مجنون کہنا کفارنے اس دعویٰ کے بالمقابل لاجواب ہوکریہ دعویٰ پیش کردیاکہ تم تومجنون ہو اورمجنون ہونے کی یہ دلیل دی کہ تم کہتے ہوکہ یہ کلام تم پرفرشتے لے کرآتے ہیں۔اگر تمہارایہ قول درست ہوتاتوپھر وہ فرشتے دوسرے لوگوں کوبھی نظر آتے۔لیکن چونکہ وہ دوسرے لوگوںکو نظر نہیں آتے۔معلوم ہواکہ یہ تمہاراوہم ہے۔اور تمہارے جنون کی علامت ہے۔مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤااِذًا مُّنْظَرِيْنَ۰۰۹ (کیاا نہیں معلوم نہیں کہ)ہم (جب بھی )فرشتوں کو( اتارتے ہیںتو) حق کے مطابق اتارتے ہیں اور(جب کافروں کے لئے اتارتے ہیں تو)اس وقت انہیں (ذرّہ بھی )مہلت نہیں دی جاتی۔حل لغات۔حَقّ کی تشریح کے لئے دیکھیںسورۃ رعد آیت نمبر۱۵۔مُنْظَرِیْنَ۔اَنْظَرَہُ الدَّیْنَ۔اَخَّرَہٗ۔قرض اداکرنے کے لئے قرض دار کومزید مہلت دی۔یُقَال کُنْتُ اُنْظِرُ الْمُعْسِرَ اَیْ اُمْھِلُہُ یعنی کُنْتُ اُنْظِرُ الْمُعْسِرَکافقرہ انہی معنوں کے لئے استعمال ہوتاہے کہ میں تنگدست قرض دار کو مہلت دیاکرتاتھا۔(اقرب) تفسیر۔بِالْحَقِّ کے تین معنے حَقّ کے معنے پہلے گزرچکے ہیں اس جگہ یاتواس کے معنے سچے کلام کے ہیں اورمطلب یہ ہے کہ فرشتے کلام الٰہی کے ساتھ اُتراکرتے ہیں۔مگرتم نہ رسول ہوکہ تم پر فرشتے اتریںاورنہ ہی