تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 205

سے مل جاتا ہے۔ایک اعتراض کا جواب یاد رکھنا چاہیے کہ جولوگ یہ کہتے ہیں فلاں گائوں ہلاک ہوگیا فلاں شہر میں بیماری پڑ ی مگر اس میں کوئی نبی نہ تھاان کایہ اعتراض غلط ہے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیاگیاہے نبی کی بعثت کے بعد اس کے مخاطبین کی سب بستیاں عذاب کی مستحق ہوجاتی ہیں اوربتایاگیاہے کہ جب نبی مبعوث ہوتو اس کے مخاطبین کی سب بستیاں اس کی بستی کے تابع سمجھی جاتی ہیں اوراس بستی میں نبی کی بعثت کے بعد سب بستیاں عذاب کی مستحق ہوجاتی ہیں اگروہ ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتووہ ساری قوم انکار کے باعث مستحقِ عذاب ہوتی ہے خواہ ان کی بستیوں میں سے و ہ نبی گزرابھی نہ ہواور اگر وہ سب دنیا کی طرف ہوتو سب دنیامستحق عذاب ہوجاتی ہے نیز اس آیت سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ کسی بستی پر عذاب آنا اس بات کی علامت نہیں کہ ضرورکوئی نبی آیا ہوبلکہ اسی قدر وسیع عذاب جس قدر وسیع نبی کاحلقہ ہونبوت کی دلیل ہوتاہے اگرایک قوم کی طرف نبی ہوتوقومی عذاب نبی کی علامت ہےاور اگر ایسے نبی کا زمانہ ہوجو سب دنیا کی طرف مبعوث ہواہوتوپھر عالمگیر عذاب ہی اس کی علامت ہے یہ کہنا حماقت ہے کہ اگرعذاب بغیر نبی کے نہیں ہوتاتوفلاں گائوں کیوں ہلاک ہواتھااس وقت کون نبی آیاتھایہ عذاب جو نبوت کی علامت ہوتاہے اس وسیع حلقہ کااحاطہ کرتاہے جونبی کامخاطب ہوتاہے بنی اسرائیل کے نبیوں کے لئے کسی ایک گائوں کاعذاب نہیںبنی اسرائیل کی قوم کاعذاب علامت تھااور محمد رسول اللہ صلعم کے لئے کسی قوم کاعذاب نہیں بلکہ دنیابھر کی تباہیاں علامت تھیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عرب پر خصوصاً عذاب آیا جیساکہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب پرخصوصاً عذاب آیامگرساری دنیاپر بھی اللہ تعالیٰ نے ایک قلیل عرصہ میں تباہی نازل کی۔(بخاری کتاب التفسیر سورة الدخان باب یغشی الناس ھذا عذاب الیم) كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌسے مراد كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌسے مراد وہ مدت ہے جو انبیاء کے ذریعہ سے بتادی جاتی ہے اوراس جگہ قریة سے مراد وہی لوگ ہیںجن کو نبیوں کی مخالفت کی وجہ سے عذاب ملتا ہے۔ایسے لوگوں پر عذاب ہمیشہ کھُلی پیشگوئیوں کے بعد آتاہے۔