تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 203

تفسیر۔اس آیت میں یہ بتلایاہے کہ یہ لوگ مختلف مسائل میں اسلام کی برتری توتسلیم کرتے ہیں۔اورکریں گے۔مگرپھر بھی اسلام کی طرف قدم اٹھانانصیب نہ ہوگا۔یورپ کے لوگ اسلامی مسائل کی برتری کومانتے ہیں مگراسلام لانے کے لئے طیار نہیں۔کیونکہ سوسائٹی کاسوال ہے۔فرمایاوہ اپنے اکل و شرب کی وجہ سے اپنی تجارتوںاورصنعتوں کی وجہ سے اوراپنی بعید آرزوئوں کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوتے۔اس میں گویاپہلی آیت کے مفہوم پر جوسوال پیدا ہوتاتھا۔اس کا جواب دیاگیاہے۔یعنی جب وہ لوگ خواہش کرتے ہیںاورکریں گے ’کاش وہ مسلمان ہوتے‘ تووہ مسلمان ہوتے کیوں نہیں ؟فرمایا ان کی عیاشی دولت کی حرص اورطولِ امل ان کے راستہ میں روک بن رہے ہیں۔صداقت قبول کرنے کے لئے کھانے پینے میں سادگی ضروری ہے اس آیت سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ صداقت کو قبول کرنے کے لئے کھانے پینے میں سادگی دنیا کی حرص سے اجتناب اورطول امل سے بچنا ضروری امور ہیں جوشخص صداقت کاجویاہواس کے لئے ان سے بچنا ضروری ہے اگر کوئی ان تین باتوں سے نہیں بچتاتواس کاصداقت کی جستجو کرنافضول امر ہے۔اگرحق اس پر کھل بھی جائے گا تب بھی وہ اس کے قبول کرنے سے محروم رہے گایہ اشارہ بھی اس آیت میں ہے کہ کفار لوگوں پر رعب جمانے کے لئے اپنے دسترخوان کوخوب وسیع کرتے دولت کماتے اورمحمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح پانے کے لئے دوردورکی تدابیراختیارکرتے تھے جبکہ محمد رسول اللہ صلعم ان سب باتوں سے خالی تھے مگرباوجود اس کے فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی جیتیں گےاورکفار کے دلوں میں آ پؐ کی کامیابی دیکھ کر حسرت پیداہوگی۔لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ کہناکفّار کاعارضی جذبہ ہے اس آیت سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَکفّار کاعارضی جذبہ ہے ورنہ اصل میں وہ کھانے پینے اوردولت کمانے میں لگے ہوئے ہیں اورعارضی جذبات انسان کو نفع نہیں دیتےبلکہ مستقل جذبات فائدہ دیتے ہیں مسلمانوں کامستقل جذبہ مسلم ہونے کاہے عارضی طورپر وہ کھاتے پیتے دولت کماتے اوربعض تدابیر بھی آئندہ کے لئے کرلیتے ہیں پس باوجود ان کاموں کے وہ ہدایت پارہے ہیں جبکہ کافرہدایت نہیں پاتے۔