تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 191
لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ (یہ اس لئے ہو گا) تا اللہ (تعالیٰ) ہر شخص کو جو کچھ اس نے (اپنے لئے) کیا ہوگا اس کا بدلہ دے۔اللہ( تعالیٰ )یقیناً الْحِسَابِ۰۰۵۲ (بہت) جلد حساب لےلینے والا ہے۔تفسیر۔لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ یعنی جو اس نے اعمال کئے تھے ان کے مطابق اس کو ان کا بدلہ مل جائے اور اللہ تعالیٰ یقیناً حساب لینے میں جلدی کرنے والا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جلدی عذاب دیتا ہے کیونکہ خود اس نے فرمایا ہے کہ میں ڈھیل دیتا ہوں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ حِسَابُہٗ سَرِیْعٌ جب حساب لینے لگتا ہے تو جلدی لے لیتا ہے۔هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ یہ (ذکر) لوگوں کے (نصیحت حاصل کرنے کے )لئے کافی ہے اور اس بات کے لئے (بھی ) کہ انہیں (آنے والے وَّاحِدٌ وَّ لِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِؒ۰۰۵۳ عذاب سے پورے طور پر ) ہوشیار کیا جائے اور اس لئے (بھی) کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ وہ صرف ایک ہی معبود ہے اور اس (بات کے) لئے (بھی) کہ عقل والے (لوگ) نصیحت حاصل کریں حلّ لُغَات۔اَلْبَلَاغُ الْکِفَایَۃُ۔جو چیز کافی ہو۔(اقرب) تفسیر۔هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ۔یہ لوگوں کے لئے پیام ہے یعنی اس پیام کے ذریعے لوگوں پر حجت پوری کی جاتی ہے۔وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ قرآن کریم ایک انذار ہے اس کے ذریعہ لوگوں کو ہوشیار کیا جاتا ہے جو غلطی میں پڑے ہوئے ہیں ان کو وہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور جو سمجھ چکے ہیں انہیں وہ ہمیشہ استقلال سے صداقت پر قائم رکھنے کے لئے ہوشیار کرتا رہتا ہے تاکہ وہ روز بروز ہدایت میں بڑھتے رہیں۔قرآن کریم بھی ایسی