تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 186
وَ اَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اور تو لوگوں کو اس دن سے ڈرا جب ان پر وہ (موعود ) عذاب آئے گا اور جن لوگوں نے ظلم (کا شیوہ اختیار) کیا ہوگا ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ (اس وقت) کہیں گے( کہ اے )ہمارے رب ہمارے معاملہ کو کسی (اور ) قریب میعاد تک(کے لئے ) پیچھے ڈال نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ دے۔ہم تیری (طرف سے آئی ہوئی) دعوت کو قبول کریں گے اور (تیرے)رسولوں کی پیروی کریں گے (جس پر مِّنْ زَوَالٍۙ۰۰۴۵ انہیںجواب ملے گاکہ کیا( ابھی اتمام حجت کی کوئی کسر باقی ہے ) اور کیا تم نے پہلے قسم (پر قسم ) نہیں کھائی تھی کہ تم پر کسی قسم کا زوال نہیں (آئے گا ) تفسیر۔یہ اُخروی عذاب کا ذکر ہے۔جہاں بھی قرآن کریم میں دنیوی عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو اس کے ساتھ آخرت کے عذاب کا بھی ضرور بیان ہوتا ہے کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے لئے دلیل ہوتا ہے۔وَّ سَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَيَّنَ حالانکہ تم نےان لوگوں کے گھروں کو اپنا گھر بنایا ہوا ہے جنہوں نے (تم سے پہلے ) اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم پر یہ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ۰۰۴۶ بات خوب روشن ہو چکی تھی۔کہ ان کے ساتھ ہم نے کیسا معاملہ کیا تھا اور ہم تمام باتیں تمہارے لئے کھول کر بیان کر چکے ہیں۔حل لغات۔ضَرَبْنَا لَکُمُ الْاَمْثَالَ تمہارے لئے ضروری امور کھول کر بیان کر چکے ہیں۔دیکھو ابراہیم آیت نمبر۲۵۔