تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 187

تفسیر۔اکثر قومیں ان علاقوں میں بستی ہیں جہاں پہلے دوسری اقوام بس چکی ہیں اور باوجود طاقت و قوت کے الٰہی آواز کا انکار کرکے عذاب پاچکی ہیں مگر افسوس کہ پھر بھی لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کے عذاب کو خود چکھنا چاہتے ہیں۔وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ اور یہ (لوگ) اپنی( ہر ایک) تدبیر عمل میں لاچکے ہیں اور ان کی( ہر) تدبیر اللہ( تعالیٰ) کے ہاں( لکھی ہوئی اور مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ۰۰۴۷ محفوظ) ہے( بھولی نہیں)اور گو ان کی تدبیر ایسی (ہی کیوں نہ )ہو کہ اس کے نتیجہ میں پہاڑ( بھی) اپنی جگہ سے ٹل جائیں (لیکن یہ تیرا کوئی نقصان نہیں کر سکتے) حلّ لُغَات۔اَلْجَبَلُ کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر ۳۲۔تفسیر۔وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ۔اور انہوں نے اپنی تدبیریں کی تھیں جو کچھ ان کے بس میں تھا انہوں نے کیا۔عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ کے دو معنے وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا مکر ہونے کے دو معنے ہیں۔اول ہر تدبیر کا نتیجہ خدا تعالیٰ ہی نکالتا ہے۔پس ان کے مکر نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔وہ ان کی تدبیروں کو ضائع کر دے گا۔دوم۔ان کا مکر خدا تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے یعنی یہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کے لحاظ سے تو ضائع ہو گیا ہے لیکن خود ان کو نقصان پہنچانے کے لحاظ سے ضائع نہیں ہوا۔خدا تعالیٰ کے پاس موجود ہے وہ اس کی سزا ضرور دے گا۔مکرھم میں مکر کی اضافت مفعول کی طرف بھی ہو سکتی ہے مَکْرُھُمْ میں مکر کی اضافت مفعول کی طرف بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے مکر کی سزا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دینی ہے اس کے پاس محفوظ ہے۔اس صورت میں تقریر عبارت یوں ہوگی مَکْرُہُ الَّذِیْ یَمْکُرُبِھِمْ۔وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ کے دو معنی وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ۔ان